پلٹ تیرا دھیان کدھر ہے!

پیشاب تصویر کے کاپی رائٹ Hackney Council
Image caption ہیکنی کاؤنسل ہر سال دیوراوں سے پیشاب صاف کروانے پر تقریباً ایک لاکھ پاؤنڈ صرف کرتی ہے

لندن کی ایک کونسل ایک ایسا پینٹ استعمال کرنے کا تجربہ کر رہی ہے جسے دیواروں پر لگانے کے بعد اگر کوئی وہاں پیشاب کرتا ہے تو وہ پیشاب واپس اس کے اوپر ہی آ گرے گا۔

مائع کو واپس پھینکنے والے پینٹ کا تجربہ مشرقی لندن کے دو مقامات شورڈچ اور ڈالسٹن میں کیا جا رہا ہے جہاں کلبوں میں بہت شراب پی جاتی ہے۔

ہیکنی کونسل ہر سال دیواروں سے پیشاب صاف کروانے پر تقریباً ایک لاکھ پاؤنڈ خرچ کرتی ہے۔

کیبینٹ ممبر فار نیبرہوڈز فیریال ڈرمیچی کہتے ہیں: ’اگر جرمانے کا ڈر انھیں گلیوں میں پیشاب کرنے سے نہیں روک سکتا تو ہو سکتا ہے پیشاب میں تر ہونے کا خدشہ ہی انھیں ایسا کرنے سے باز رکھے۔‘

پینٹ میں ایک ایسا کیمیکل موجود ہے جو مائع کو واپس پھینکتا ہے، مطلب یہ کہ اسے پیشاب کرنے والے کی طرف واپس دھکیل دیتا ہے۔

اس کا یہ بھی مقصد ہے کہ پیشاب دیواروں کو گیلا کرنے کے بعد وہاں نشانات یا بدبو نہیں چھوڑے گا۔

ڈرمیچی چاہتے ہیں کہ لوگ ذمہ داری سے پییں اور ساتھ ہی ساتھ قریبی علاقوں میں رہنے والے دیگر افراد کے متعلق بھی سوچیں۔

مانیکا نفیلڈ ہیلتھ میں ڈیوٹی مینیجر ہیں۔ انھیں اولڈ سٹریٹ کے قریب بیٹمینز روو میں کئی مرتبہ پیشاب صاف کرنا پڑا ہے۔

’یہ کوئی اچھا کام نہیں۔ جب میں سینٹر کھولتی ہوں تو پہلا کام میرا جا کر چیک کرنا ہوتا ہے۔ لوگ فائر ایگزٹ میں بھی پیشاب کر دیتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’کبھی کبھار تو لوگ قے بھی کر دیتے ہیں۔ مجھے پانی سے اسے صاف کرنا پڑتا ہے۔ یہ اختتام ہفتہ کے بعد تو خصوصاً بہت بری بدبو دیتا ہے۔‘

جب انھیں نئے پینٹ کا بتایا گیا تو انھوں نے کہا کہ یہ ایک دلچسپ خیال ہے۔

لیکن وہ سمجھتی ہیں کہ بہتر روشنی بھی مدد دے سکتی ہے۔

پیشاب کو واپس دھکیلنے والا پینٹ ایک امریکی کمپنی الٹرا ٹیک نے بنایا ہے اور یہ سطح پر تقریباً نہ نظر آنے والی ہوا کی ایک رکاوٹ سی کھڑی کر دیتا ہے۔

کونسل نے دو مقامات پر پینٹ کے لیے ایک ہزار پاؤنڈ خرچ کیے ہیں اور وہ ابھی یہ نہیں بتانا چاہتی کہ کن جگہوں پر پینٹ استعمال کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں