کشمیري فلم ساز عفت فاطمہ اور کشمير ميں لاپتہ افراد کي بازيابي کے ليے کام کرنے والي تنظيم ’ایسوسی ایشن آف پیرینٹس آف ڈساپيئرڈ پرسنز‘ کی بانی پروینا آہنگر
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’جب تک زندہ ہوں بیٹے کو ڈھونڈتی رہوں گے‘

انساني حقوق کي تنظيموں کے مطابق انڈيا کے زير انتظام کشمير ميں جاري شورش ميں ہزاروں کشميري نوجوان لاپتہ ہو چکے ہيں۔

کشمیري فلم ساز عفت فاطمہ نے نو سال کی کاوش کے بعد پچھلے سال اسي موضوع پر ایک فلم مکمل کي، جس کا کشمیری نام ہے ’خون دیئہ بارؤ‘ يعني ’خون دے گا دُہائي‘۔

عفت فاطمہ اور کشمير ميں لاپتہ افراد کي بازيابي کے ليے کام کرنے والي تنظيم ’ایسوسی ایشن آف پیرینٹس آف ڈساپيئرڈ پرسنز‘ کی بانی پروینا آہنگر اِس فلم کی سکرینگ کے لیے آج کل لندن میں ہیں۔

بی بی سی اردو کی عالیہ نازکی نے اُن سے ملاقات کی اور پہلے یہی پوچھا کہ کيا اُن کي فلم کي سکرينگ انڈيا ميں بھي ہوئي ہے؟

کشمیري فلم ساز عفت فاطمہ اور کشمير ميں لاپتہ افراد کي بازيابي کے ليے کام کرنے والي تنظيم ’ایسوسی ایشن آف پیرینٹس آف ڈساپيئرڈ پرسنز‘ کی بانی پروینا آہنگر