کبھی ایران ایسا بھی تھا

ایران ایک اسلامی ملک ہے مگر آج بھی ایرانی نژاد لوگ سنہ 1979 میں آنے والے اسلامی انقلاب سے پہلے کے ایران کی یادیں تازہ کرتے ہیں اور اسی سلسلے میں برطانیہ میں ایک نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ afsoon

خسرو حسن زادہ نے 1970 کی دہائی کی مشہور ایرانی گلوکارہ گوگوش کے کئی ٹیپ اور البم جمع کیے ہیں۔ ان میں سے بہت سے ان لوگوں سے ملے، جو اس وقت ایران سے پڑھنے کے لیے یا پھر نئی نوکری کی تلاش میں بیرونِ ملک چلے آئے تھے اور وہاں یہ نغمات سن کر وطن کی یادیں تازہ کرتے تھے۔

گوگوش اس وقت کی مشہور پاپ آئیکون تھیں۔ ایرانی نژاد برطانوی شہری سارہ مقاري اغدم کے والد گوگوش کے بہت بڑے مداح تھے۔ ان کے پاس سے گوگوش کی البم کے کئی ٹیپ ملے۔ وہ آج بھی اس دور کے گیت یاد کرکے جذباتی ہو جاتے ہیں۔

سارہ کے والد حصولِ تعلیم کے لیے ایران سے انگلینڈ آئے تھے اور اسلامی انقلاب کی وجہ سے وہ برطانیہ میں ہی بس گئے۔ آج اپنے وطن کی یاد دلانے کے لیے ان کے پاس گوگوش کے یہ ٹیپ ہی بچے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ afsoon

ایرانی نژاد آرٹسٹ افسون کو بھی وہ دن بہت یاد آتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ایران میں 1979 کے انقلاب کے بعد جو لوگ اپنے وطن سے چلے آئے تھے، وہ ساٹھ اور ستر کی دہائی کے ایران کو بہت شدت سے یاد کرتے ہیں۔

افسون کہتی ہیں کہ ایرانی نژاد لوگوں کی نئی نسل اپنے ماں باپ کی تصویریں دیکھ کر چونک جاتی ہے کیونکہ اسے یقین نہیں ہوتا کہ ایران میں کوئی دور ایسا بھی تھا جب عورتوں کو اتنی آزادی حاصل تھی۔

کیونکہ آج وہاں گانے بجانے پر پابندی ہے تو نئی نسل کو لگتا ہے کہ ایران ہمیشہ سے ہی ایسا تھا۔

اب ماں باپ کی زبانی سنے قصے ہی نئی نسل کو اپنے ملک سے جوڑنے کی کڑی ہیں۔ کچھ پرانی تصاویر، کچھ ٹیپ ریکارڈر، اس گزرے زمانے سے نئی نسل کو جوڑتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ afsoon

خود افسون کہتی ہیں کہ انھیں اپنے ملک کی اور وہاں کے کام کی بہت یاد آتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ تبدیلی قدرت کا اصول ہے۔ تو یہ تبدیلی بھی ہوگئی مگر وہ پرانے دور کو آرٹ کے ذریعہ جی رہی ہیں۔

ستر کی دہائی کے ایران کی نمائش کے لیے افسون نے کچھ ماچس کی ڈبیاں بنائی ہیں جن پر ان کے پسندیدہ فنکاروں کی تصاویر ہیں جن میں گلوکارہ گوگوش، فلم سٹار بہروز ووسوغي ہیں، پاپ سٹار عارف اور گلوکارہ رامیش شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Afsoon

افسون کی سب سے زیادہ پسندیدہ اداکار گوگوش ہیں جو ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ایران کی سپر سٹار تھیں۔

انھوں نے بچپن سے ہی گانا شروع کر دیا تھا اور جوانی کے دنوں میں گوگوش کا جادو ایران کے لوگوں پر چڑھ کر بولتا تھا۔

ان کا لباس، ان کا ہیئر اسٹائل، ایران کی ہر لڑکی آزمانا چاہتی تھی۔ جو گوگوش پہن لے، وہی ایران میں چلن بن جاتا تھا۔

انھیں ایران میں مغربی ممالک کی علامت سمجھا جاتا تھا تاہم ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد بھی گوگوش فعال رہیں اور وہ آج بھی فلمیں کرتی ہیں۔

افسون نے یہ تمام ٹیپ، ایران پر مبنی نمائش کے لیے دی ہیں۔ اب یہ ٹیپ، اس دور کی چیزیں ایران میں نہیں مل سکتیں۔ اسلامی انقلاب کے بعد سب کچھ ’دفن‘ کر دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Malekeh Nayiny

پیرس کی رہنے والی ملکہ نیني، آپ کے خاندان کی تصویر البم کے ذریعہ ستر کی دہائی کے ایران کی یاد دلاتی ہیں۔

ملکہ تہران میں پیدا ہوئی تھیں۔ انھوں نے اپنے خاندان کی اس دور کی تصاویر کو ایران پر مبنی نمائش میں شامل کیا ہے۔

ان تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ اس دور میں ایران میں لوگوں کا رہن سہن اور لباس کیسا تھا۔ کس طرح ایرانی لوگ کھلے عام مغربی فیشن کرتے تھے۔

ملکہ کہتی ہیں کہ یہ انتہائی ذاتی تصاویر ہیں مگر لوگوں نے انھیں بہت پسند کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Malekeh Nayiny

اسی البم میں ایک تصویر ملکہ کی چچی بتول کی ہیں۔ ان بلیک اینڈ وائٹ تصویر کو پہلے تو ملکہ نے رنگین بنایا پھر اس میں ان کے شوہر کی تصویر بھی ایک فریم میں شامل کر دی۔

ان کے شوہر ڈاکٹر امیني، ایران کے وزیر اعظم تھے۔ چاچی بتول کی تصویر میں ملکہ نے مصنوعی بلیوں کو بھی شامل کر دیا جس سے اس تصویر کو ایک دم الگ ہی رنگ مل گیا۔

ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد بہت توڑ پھوڑ ہوئی تھی۔ انقلاب کے ان ضمنی اثرات کو ملکہ نے توڑ پھوڑ کی تصاویر کے درمیان کچھ یادگار تصاویر جوڑ کر پیش کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Malekeh Nayiny

ملکہ کہتی ہیں کہ انقلاب سے پہلے وہ پڑھنے کے لیے ایران سے باہر نکلی تھیں مگر پھر کبھی واپس اپنے وطن نہیں گئیں۔ آج جب وطن کی یاد انھیں ستاتی ہے تو وہ ان تصاویر کے ذریعے اپنے دور کو یاد کرتی ہیں۔

ملکہ کہتی ہیں کہ پرانے ایران کی یادیں، ہیرو ہیروئن کی تصاویر سے تازہ ہوتی ہیں اور اسلامی انقلاب کی وجہ سے ملک میں جو اتھل پتھل مچی، اسے اس تصویر کے ساتھ دکھائی گئی توڑ پھوڑ اور ملبہ بیان کرتا ہے۔

اسلامی انقلاب سے پہلے ایران ایک آزاد خیال ملک تھا۔ خواتین کو کافی آزادی حاصل تھی۔ آج وہ پردے میں ہیں لیکن ان کی آزادی ان سے نہیں چھینی جا سکتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Malekeh Nayiny