اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ترکی میں باغیوں کے خلاف کارروائی

ترک حکام نے کچھ ایسے فوجی کمانڈوز کو حراست میں لیا ہے جن پر شبہ ہے کہ انھیں دو ہفتے قبل ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے وقت صدر رجب طیب اردوان کو پکڑنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔پندرہ جولائی کی شب ہونے والی ناکام بغاوت کے وقت صدر اردوغان جنوب مغربی ترکی کے تفریحی مقام مارمارس میں تھے تاہم انھوں نے اپنے ہوٹل پر حملے سے پہلے ہی وہ جگہ چھوڑ دی تھی۔ صدر اردوغان اور اُن کی جماعت امریکہ میں جلاوطن ترک مبلغ فتح اللہ گولن پر سازش کا سرخیل ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں جسے فتح اللہ گولن مسترد کرتے ہیں۔نامہ نگار مارک لوئن کی رپورٹ پیش کر رہے ہیں کاشف قمر