دنیا کی طویل ترین بھوک ہڑتال کا’خاتمہ‘

Image caption انھوں نے گذشتہ ماہ عدالت کو بتایا تھا کہ وہ نو اگست کو اپنی بھوک ہڑتال ختم کریں گی اور ریاست منی پور میں ہونے والے انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابی مہم حصہ چلائیں گی

انڈیا کی ریاست منی پور کی انسانی حقوق کی مشہور کارکن اروم شرمیلا نے ریاست میں مسلح افواج کے متنازع قانون کے خلاف 16 برس سے جاری بھوک ہڑتال آج منگل کو ختم کر رہی ہیں۔

انھوں نے گذشتہ ماہ عدالت کو بتایا تھا کہ وہ نو اگست کو اپنی بھوک ہڑتال ختم کریں گی اور ریاست منی پور میں ہونے والے انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابی مہم حصہ چلائیں گی۔

اروم شرمیلا گذشتہ 16 سال سے منی پور میں مسلح افواج کو دیے جانے والے خصوصی قانون (افسپا) کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال پر ہیں۔

واضح رہے کہ افسپا کے ذریعےمسلح افواج کو کسی بھی شخص کو بغیر وارنٹ گرفتار کرنے کے غیر معمولی اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں۔

یہ قانون انڈیا کی متعدد ریاستوں جس میں منی پور بھی شامل ہیں کے علاوہ انڈیا کے زیرِ اہتمام کشمیر میں بھی لاگو ہے۔

اروم شرمیلا کو بھوک ہڑتال کے دوران زبردستی ناک کے ذریعے خوراک دی جاتی تھی۔

اروم شرمیلا نے نومبر سنہ 2000 میں اپنی بھوک ہڑتال اس وقت شروع کی تھی جب امپھال میں آسام رائفل کے سپاہیوں کے ہاتھوں مبینہ طور پر دس افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔

سنہ 2014 میں اروم شرمیلا کو رہائی کے بعد خود کشی کی کوشش کرنے کے الزام میں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔

اروم شرمیلا نے منی پور کی ضلعی عدالت میں حاضری کے موقعے پر کہا کہ وہ مقامی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینا چاہتی ہیں۔ اس عدالت میں انھیں ہر 15 دن بعد حاضری کے لیے پیش ہونا ہوتا ہے۔

اروم شرمیلا کے احتجاج نے انھیں عالمی شناخت دی اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انہیں ضمیر کا قیدی قرار دیا ہے۔

امپھال میں اس مقام پر ایک یادگار بنائی گئی ہے جہاں آسام رائفل کے سپاہیوں کے ہاتھوں مبینہ طور پر دس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

منی پور کی آبادی 25 لاکھ ہے اور یہاں جاری مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے بڑی تعداد میں فوجی، نیم فوجی دستے کے اہلکار اور پولیس تعینات ہے۔