’خانہ بدوشوں کا پرستان‘

Image caption وہ اپنے مویشیوں کے ساتھ مسلسل یہاں وہاں گھومتے رہتے ہیں جہاں انھیں موسم کی مناب سے چراگاہیں میسر آ جائیں

دہائیوں کی ترقی اور تبدیلیوں کے باوجود چین کے خانہ بدوش اب بھی موسم گرما میں سطح مرتفع تبت کی جانب ہجرت کرتے ہیں۔

ایک وقت تھا جب یہ قبائلی پورے علاقے میں ہجرت کرتے رہتے تھے اور کوئی مخصوص جگہ نہیں تھی جسے یہ اپنا گھر کہتے ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ

نسل در نسل یہ خاہ بدوشی منتقل ہوتی رہی اور یہ جہاں خیمہ لگاتے ہیں وہیں سو جاتے ہیں۔

وہ اپنے مویشیوں کے ساتھ مسلسل یہاں وہاں گھومتے رہتے ہیں جہاں انھیں موسم کی مناسبت سے چراگاہیں میسر آ جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ

حکومت کی جانب سے ایک پالیسی کے تحت ان تبتیوں کو قصبوں کی جانب منتقل کیا گیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طریقۂ کار کے تحت حکام لوگوں کو بہت آسانی سے تلاش کر سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ

کمیونسٹ پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس اقدام کے تحت لوگوں کے طرزِ زندگی کو بہتر کرنا چاہتے ہیں۔

اس لیے اب سال کے زیادہ تر وقت لوگوں کے پاس ٹیلی وژن، فریج اور بجلی سے چلنے والی روشنیاں ہوتی ہیں۔ لیکن جونہی گرمیاں آتی ہیں وہ لوگ پہاڑوں کی جانب چل پڑتے ہیں، اپنے آباؤ اجداد کی زمینوں کی طرف۔

تصویر کے کاپی رائٹ

کالسنگ گیاتسو نامی ایک خانہ بدوش کا کہنا تھا ’خانہ بدوش دل کی گہرائیوں سے خانہ بدوش ہی ہوتا ہے۔‘

’ہم زمانۂ قدیم سے اسی طرح رہتے آ رہے ہیں۔ دراصل ہمیں گھروں میں رہنا پسند ہی نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

انھوں نے بتایا کہ ’اگر ہم گرمیوں میں ان سبزہ زاروں میں نہ جائیں تو ہمارے مویشیوں کے لیے یہاں کھانا نہیں ہو گا۔ اور یہ گھاس نہیں کھائیں گے تو یہ صحت مند نہیں ہوں گے اور دودھ نہیں دیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ گرمیوں کی ان چراگاہوں میں اگنے والے پھولوں کی طبی اہمیت بھی ہوتی ہے جنھیں کھا کر یاک (پہاڑی بھینسے) صحت مند رہتے ہیں۔

چین کے علاقے تبت میں ماضی میں بغاوت ہوتی رہی جس کا الزام بیجنگ پر عائد کیا جاتا ہے کہ وہاں کے حکام تبت کے بودھ مت مذہب، زبان اور تہذیب پر پابندیاں عائد کرتے ہیں۔ حکومت کا جواب ہوتا ہے کہ یہ سب ترقیاتی منصوبوں کا حصہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

خانہ بدوشوں کا کہنا ہے کہ شہر کے لوگ بھی ان سبزہ زاروں میں آ کر تازہ ہوا اور جنگلی پھولوں کی خوشبو سے خوش ہوتے ہیں۔ ان کے بقول ’یہ ایک پرستان ہے۔‘

یہ خانہ بدوش یہاں سبزہ زاروں میں ستمبر کے آخر تک رکیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

یہ گھاس پر ننگے پاؤں چلتے ہیں تاکہ وہ پھول مسلے نہ جائیں جنھیں یاکس نے کھانا ہے۔

مویشیوں سے حاصل ہونے دودھ سے مکھوں اور پنیر بنائی جائے گی۔

جیسے ہی موسم سرد ہونا شروع ہوگا یہ خانہ بدوش واپس ذیلی علاقوں کر طرف کوچ کر جائیں گے لیکن اگلے برس پھر سے گرما میں یہاں لوٹنے کے لیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ