BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
سیکس سرِ ورق
 

 
انڈیا ٹوڈے کا شمارہ
سیکس کے سروے نے بحث گرم کر دی ہے

کاما سترا کا دیس کہلوانے والے ملک بھارت کے باسی، جہاں صدیوں سے مندروں تک میں جنسی اشتہا سے بھرپور تصاویر بنی ہوئی ہیں، ابھی بھی سیکس یا جنس پر بات کرتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں۔

زیادہ تر خاندان سیکس جیسے موضوع پر بات تک کرنا مناسب نہیں سمجھتے جبکہ محبت کا سرِ راہ اظہار کرنا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔

اور جب حالاتِ حاضرہ کے ایک مقبول جریدے نے بھارت کے ایک سیکس سروے کو سرِورق لگایا تو بہتوں کے منہ شرم سے لال ہو گئے۔

انڈیا ٹوڈے کے ایک شمارے میں سیکس کے موضوع پر کافی بھرپور اور کھلا مواد ہے۔

میں نے چودہ سال کی عمر کے بچوں کے ایک گروہ سے انڈیا ٹوڈے کے اس شمارے کے متعلق دریافت کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے انہیں بہت سی نئی چیزوں کا پتہ چلا ہے۔

گیتا ٹنڈون جاننا چاہتی ہیں کہ جی سپاٹ کیا ہوتا ہے، جبکہ پرانے منچندنا جاننا چاہتے ہیں کہ کوئی شیشے کے سامنے سیکس کیوں کرنا چاہے گا۔

کبیر ناتھ کے خیال میں ’اس سے ان لوگوں کو یہ پتہ چلے گا کہ وہ کیا کر رہے ہیں‘۔

سب یہ باتیں کرتے ہوئے ہنس بھی رہے ہیں۔ لیکن یہ بچے اس بات پر متفق ہیں کہ اس سے اس وقت ہی فائدہ ہو گا جب سیکس جیسے موضوع پر آزادانہ بات ہو سکے۔

بچے جریدے کے نئے شمارے پر جھکے ہوئے ہیں
بچوں کو سکیس پڑھانا ٹھیک ہے کہ غلط؟

الیشا بینرجی کا کہنا ہے کہ ایک فیملی میگیزین کے پہلے صفحے پر سیکس جیسا موضوع لانا ایک اچھی چیز ہے کیونکہ اس سے والدین بچوں سے اس بارے میں بات کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

لیکن والدین اس شمارے سے اتنے خوش نہیں۔

کیپٹن ہرمندر سنگھ اور ان کی بیوی نیلو کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے سٹال پر لگے اس جریدے کو دیکھا تو انہوں نے اپنی گیارہ سالہ بچی کی وجہ سے اسے خریدنے کا ارادہ ترک کر دیا۔

کیپٹن ہرمندر کا کہنا تھا: ’یہ بہت ناشائستہ تھا، بہت کھلا تھا۔ تصاویر بہت عریاں تھیں۔ میں اپنی بچی کے ساتھ سیکس جیسے موضوع پر بات کرتا ہوں لیکن میں نے یہ محسوس کیا کہ یہ جریدہ اسے دینا ابھی ٹھیک نہیں۔‘

مکیش جین دلی میں فیڈریشن آف پیرنٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ہیں اور اس کے ساتھ وہ دو بچوں کے باپ بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ جریدے کا پہلا صفحہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ ایسا جریدہ ہے جسے میں اپنے دفتر میں نہ رکھوں، گھر میں رکھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ بازاری ہے، برا ہے اور اسے بچوں سے دور رکھنا چاہیئے۔‘

انڈیا ٹوڈے کی انتظامیہ یہ مانتی ہے کہ یہ شمارہ کافی بیباک تھا۔

جریدے کی ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس سے کچھ قدامت پسند پڑھنے والوں کے جذبات ضرور متاثر ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں ان افراد کی طرف سے بھی بہت خطوط آئے ہیں جنہوں نے اس موضوع کو سامنے لانے کے لئے جریدے کی بہت تعریف کی ہے۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد