گوادر کے باسیوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی میں عار کیا؟

گوادر
Image caption گوادر کے میگا منصوبے کے خلاف خدشات اور تحفظات کو کیش کرنے والوں کی بھی اس خطے اور عالمی سطح پر کوئی کمی نہیں

گودار یا بلوچستان کا مسئلہ ہے کیا؟ دراصل یہ اتنا مشکل اور پیچیدہ نہیں جتنا کہ شاید بنا دیا جاتا ہے۔

بنیادی مسئلہ گوادر کے باسیوں کے ساتھ بیٹھ کر انھیں حقوق کے تحفظ کی ضمانت دینا ہے اور ایسا کرنے میں عار کیا ہے؟

گوادر کا بنیادی مسئلہ مقامی لوگوں کی جانب سے حقِ ملکیت کے احترام کا مطالبہ ہے۔ پورے بلوچستان کی طرح گوادر کے لوگ بھی اپنے وسائل پر پہلے حق کی آئینی ضمانت مانگ رہے ہیں۔

ان کی آبادی کم ہے لہذا ان کے خدشات بھی زیادہ ہیں۔ یہ خوف اس آبادی کا قدرتی ردعمل ہے جسے بیرونی یلغار کا شک ہے۔ انھیں ڈیموگرافک تبدیلی کا خوف ہے۔

کسی بھی مہذب معاشرے میں یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ انھیں اگر عزت کے ساتھ بٹھایا جائے اور آئینی ضمانت کی کسی صورت میں بھی کوئی یقین دہانی کروا دی جائے تو تنازع بخوبی حل کیا جا سکتا ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کچھ عرصہ قبل بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ گوادر پورٹ کے منصوبے نے بلوچستان میں آگ لگائی ہے اور دراصل چنگاری گوادر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہماری کسی سے کوئی دسمنی نہیں ہے۔ ہم نے صرف حقوق کی بات کی ہے جہاں حقوق کی بات کرنا گناہ سمجھا جاتا ہے۔'

ان کا اشارہ یقیناً سنہ دو ہزار پانچ کی جانب تھا جب پہلی مرتبہ گوادر پورٹ کی بات شروع ہوئی تھی۔

بلوچستان سے سابق رکن پارلیمان ثنا بلوچ نے بھی گذشتہ دنوں اپنے تحفظات کا اظہار کچھ یوں کیا کہ 'تنازعات کے مناسب حل کے طریقۂ کار کو، جس میں مناسب آئینی ضمانتیں، حقوق انسانی کی خلاف روزیاں روکنا اور بلوچوں کے زخم پر مرہم رکھنا شامل ہے، کی بجائے حکومت کاروباری سوچ اپنائے ہوئے ہے۔'

ماہرین اور بلوچ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ گودار کی سرزمین پر کچھ ایسے عملی اقدامات کر کے دکھائے جائیں جن سے مقامی آبادی کو یقین ہو کہ یہ سب کچھ ان کے لیے ہو رہا ہے۔

اس وقت حالت یہ ہے کہ نہ پینے کا پانی ہے اور بجلی۔ نہ علاج معالجے کی سہولیات ہیں اور مقامی لوگوں کی کوئی عزت۔ شہر بسا نہیں لیکن مقامی لوگوں کے مطابق باہر سے 'سرمایہ دار لٹیرے' پہلے ہی آ گئے ہیں۔

مقامی مکرانیوں کے اس موقف کے مقابلے میں وفاق کا بھی ایک موقف ہے۔ وہ شاید سمجھتا ہے کہ ریاست سپریم ہوتی ہے اور وہ سب سے حقوق کو یقینی بناتی ہے۔

اب اگر وہ مختلف علاقوں کے لوگوں کے حق ملکیت تسلیم کرنے لگے تو وسائل کی منصفانہ اور یکساں تقسیم ممکن نہیں ہوگی۔

بلوچستان حکومت کے ایک نمائندے سے گزشتہ دنوں گفتگو میں معلوم ہوا کہ حکومت شاید اس بارے میں غور کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

اگر ایسا بلوچ رہنماؤں کی موجودگی میں ہوتا ہے تو بہتر ہے ورنہ مستقبل کے بارے میں باوثوق انداز میں کچھ کہنا ممکن نہیں۔

ایسے میں اس میگا منصوبے کے خلاف خدشات اور تحفظات کو کیش کرنے والوں کی بھی اس خطے اور عالمی سطح پر کوئی کمی نہیں۔