دھرنا ہوم ورک

پہلا منظر

ایک نجی سکول کا میدان جس کے بیچوں بیچ شامیانے لگے ہیں اور سٹیج پر بنے سنورے بچے انگریزی کی نظم پڑھ رہے ہیں۔ سامنے کرسیوں پر بہت سے خواتین و حضرات بیٹھے ہیں جن میں کچھ ان بچوں کے والدین ہیں اور کچھ اساتذہ۔ سٹیج کی دائیں جانب دو خواتین اساتذہ کھڑی سرگوشیوں میں باتیں کر رہی ہیں۔

استانی نمبر 1: شکر ہے کہ تقریباً سارے ہی بچے آ گئے ورنہ رات کو ٹیلی وژن پر خبریں دیکھ کر تو میں ڈر ہی گئی تھی۔

استانی نمبر 2: ہاں تم نے دیکھا کتنی بے دردی سے پولیس (سیکٹر) ای الیون میں پی ٹی آئی کی خواتین کی پٹائی کر رہی تھی۔

استانی نمبر 1: میں نے تو خبریں دیکھتے ہی اپنے شوہر سے کہا لو بھئی ہماری محنت ہو گئی ضائع، اب صبح کوئی بچہ نہیں آئے گا اور سارے ہفتے جو ہم انہیں تیاری کراتے رہے سب ضائع۔

استانی نمبر 2: ویسے میڈم (پرنسپل) نے ٹھیک ہی کیا جو ایکٹیویٹی ویک اسی ہفتے کر لیا ورنہ اگلے ہفتے تو کچھ نہ ہو تا صرف دھرنہ ہی ہونا تھا۔

اسانی نمبر 1: ہم تو آج رات ہی گاؤں جا رہے ہیں میرے سسر کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں اور سکول کھلنے کا کوئی چانس نظر نہیں آ رہا۔

دوسرا منظر

سکول کا "آفس" جہاں دیوار کے ساتھ ساتھ چار میزیں لگی ہیں جن پر سکول کے انتظامی عملے کے ارکان اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔ ہیڈ کلرک اونچی آواز میں کمرے کے دوسری طرف بیٹھے اپنے ساتھی کو مخاطب کرتا ہے۔

ہیڈ کلرک: عثمان صاحب میڈم (پرنسپل) آنے والی ہیں ہوم ورک ٹائپ کر لیا آپ نے۔

کلرک: بس عمر صاحب دسویں کلاس کی میڈم نے نہیں دیا باقی سب شیئر ڈرائیو (کمپیوٹر میں) میں دھرنا ایچ ۔ ڈبلیو (ہوم ورک) کے نام سے بنے فولڈر میں ڈال دیے ہیں۔

ہیڈ کلرک: بھائی جان ایک ہفتہ ہو گیا ہے میڈم نے کہا تھا اور آج یہ ہوم ورک سارے بچوں کے والدین کو بھیجنا ہے۔ بہت بے عزتی ہو گی اگر میڈم ابھی آ گئیں۔

کلرک: میڈیم گئی کہاں ہیں۔

ہیڈ کلرک: پولیس والوں کے ساتھ میٹنگ ہے اگلے ہفتے سکول کا کیا کرنا ہے اس بارے میں بات کرنے گئی ہیں۔

کلرک: میری چھٹی کی بات کی آپ نے۔

ہیڈ کلرک: کیا ضرورت ہے، اگلے ہفتے چھٹی ہی چھٹی ہے تمہاری بھی اور میری بھی۔

(دونوں ہنستے ہیں)

تیسرا منظر

سکول کا برآمدے میں ایک استانی ایک بچے کے والدین سے بات کر رہی ہیں۔

استانی: آپ تو صحافی ہیں آپ کو تو پہلے سے پتہ ہوتا ہے۔ بتائیں نا کہ بچوں کو بحریہ ٹاؤن تقریری مقابلے کے لیے بھیجوں کہ نہیں۔

صحافی: (جس کے بچے اسی سکول میں پڑھتے ہیں) میں کیا کہہ سکتا ہوں صورتحال تو آپ کو پتہ ہے اچانک خراب ہو سکتی ہے۔ ویسے شام کو فیض آباد والا چوک اور مری روڈ تو بند ہو گی۔

استانی: اگر مری روڈ بند ہوگی تو پشاور روڈ والا رستہ بھی بند ہی سمجھیں۔ میں نے تو ان (تقریری مقابلے کی انتظامیہ) سے کہا تھا کہ اسے ایک ہفتے کے لیے مؤخر کر دیں لیکن وہ مانے نہیں۔

صحافی: کیوں؟

استانی۔ کہہ رہے تھے کہ اگلے ہفتے کے بعد کچھ پتہ نہیں سکول کتنے دن بند رہیں اور پھر نومبر کے بعد امتحان اور پڑھائی شروع ہو جائے گی تو ہمارا سالانہ مقابلہ رہ جائے گا۔

صحافی۔ باقی سکولوں کے بچے آ رہے ہیں؟

استانی۔ ابھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ سب ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا کریں۔ آپ کا کیا خیال ہے شام کو راستے کھلے ہوں گے۔

صحافی۔ میٹرو بس تو حکومت نے بند کر دی ہے۔ اس سے تو لگتا نہیں کہ شام تک حالات بہت اچھے ہوں گے۔