’خوبصورتی مرد کی نظر کیوں طے کرے؟‘

خواتین کی خوبصورتی تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption خواتین کی خوبصورتی اور حسن کے معیار بدلتے رہے ہیں

میں گیارہویں کلاس کی طالبہ تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب ماں سے بہت جھگڑا کرنے کے بعد مجھے ویکسنگ کروانے کی اجازت ملی تھی۔

يونيفارم کی سکرٹ کی ترپائی کر کے اسے چھوٹا کیا تھا اور میں بس سٹاپ پر پہنچتے ہی جرابوں کو موڑ کر ایڑی کے پاس اس کا گچھّا بنانے لگی تھی۔

ماں نے بہت سمجھایا تھا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ صرف چکنا اور ہموار جسم ہی خوبصورت ہو۔ یہ بھی کہا تھا کہ لڑکے میرے دل کی خوبصورتی کو سمجھ کر دوستی کریں، تبھی وہ اسے نبھا سکیں گے۔

لیکن ماں کی آواز سے اونچی اور صاف ان لڑکوں کی نظروں میں پوشیدہ وہ تعریف تھی جو میں روز سکول میں دیکھتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption سکول کی لڑکیاں جوان ہوتے ہی اپنی خوبصورتی کے حوالے سے حساس ہو جاتی ہیں

یہ تعریف انھی لڑکیوں کے لیے تھی جو ماں سے لڑ کر جیت چکی تھیں۔ چکنے بدن اور چھوٹی سکرٹ والی 'خوبصورت' لڑکیاں۔

میں بھی ان لڑکوں کی نظر میں 'خوبصورت' بننا چاہتی تھی۔ اس کے لیے ہر ماہ ویکسنگ کا درد، جیب خرچ کے لیے ملنے پیسوں میں سے اس کے لیے پیسے بچانا، اور اپنے بدن کی نمائش سب کچھ منظور تھا۔

کلاس کے لڑکوں کی آنکھوں کے علاوہ اور بھی بہت ساری نظروں میں 'خوبصورت' بن رہی تھی۔

ٹی وی، فلموں اور میگزینوں کو دیکھتے ہوئے میں خود کو ان 'خوبصورت' خواتین کے نزدیک پا رہی تھی جو مردوں کی پسند تھیں۔

بازار کی نظر اتنی اہم کیسے ہوتی چلی جاتی ہے؟ جو قدرتی ہے اسے تبدیل کرنے کی ایسی ضد کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption موجودہ دور میں خواتین کے سجنے اور سنورنے کے مختلف طریقے ہیں

بغلوں میں بال تو مردوں کے بھی ہوتے ہیں، ٹانگوں پر بھی ہوتے ہیں، لیکن ہم انھیں بدصورت کیوں نہیں مانتے؟

'دی ایٹلانٹک' میگزین میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی 99 فیصد خواتین اپنے جسم سے بال ہٹواتی ہیں۔

اب ویکسنگ کے ساتھ ساتھ ریزر کا استعمال بھی عام ہو چلا ہے۔ سوچیے اگر ریزر بنانے والي کمپنیاں عورتوں کے لیے خاص ریزر نہ بناتیں تو یہ کیسے ہوتا؟

اب تو پارلر جاؤں تو پوچھتے ہیں 'آپ کی شادی ہو گئی ہے تو 'بکینی ویکس' نہیں كروائیں گی کیا؟‘

درد کی بھی کوئی حد ہونی چاہیے نا۔ اور یہ سارا درد ہمارے ہی حصے میں کیوں؟

مردوں کو چھوٹی آستین کے کپڑے یا شرٹس پہننے سے پہلے کیوں سوچنا نہیں پڑتا؟ آخر وہ تو کسی کی نظر میں بدصورت نہیں ہو جاتے۔

'ایجنٹس آف عشق' نام کی ایک اور ویب سائٹ پر ایک اور مضمون پڑھا، جس میں 'دیکھے جانے اور جج کیے جانے کے خوف اور اس کے خلاف بغاوت کرنے کی مشکل' کے بارے میں تفصیل درج تھی۔

ایسا بہت کچھ پڑھ چکی ہوں۔ منٹو کی کہانی 'بو' پڑھے ہوئے بھی بہت وقت ہو گیا۔ جسم کی بدبو اور خوشبو کے نازک فرق کو سمجھنے لگی ہوں۔ لیکن اب بھی بازار اور نظروں کے کھیل سے شکست خوردہ ہی رہی ہوں۔

میری زندگی میں میری ذہنی خوبصورتی سمجھنے والے مرد ہی میرے سب سے اچھے دوست ہیں لیکن اب بھی باق غیر ضروری آنکھوں میں اپنی 'خوبصورتی' کی تعریف کو کچھ اہمیت تو دیتی ہوں۔

چکنے اور ہموار جسم کی خوبصورتی کا جال میں نے خود تو نہیں بنا لیکن پھر بھی چند ہفتوں میں اس میں پھنس کر پارلر چلی ہی جاتی ہوں۔ سوچتی رہتی ہوں کہ آخر یہ جال کس طرح سے ٹوٹے گا؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں