دبنگ نثار علی خان کا سیکولر ازم !

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’کچھ لوگ اور کچھ جماعتیں مجھ سے خار کھاتی ہیں کہ میں اسلام کی بات کیوں کرتا ہوں۔۔۔۔۔‘

نواز شریف میں اچانک سے سندھ اور خیبر پختونخوا کی محبت جاگ اٹھی ہے۔ سندھ کی زبوں حالی نے عمران خان کو آبدیدہ کر دیا ہے اور آصف زرداری پنجاب اور خیبر پختونخوا کو دل دے بیٹھے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انتخابی موسم شروع ہو چکا ہے۔ کون دوسرے کے حلقہِ اثر کے کتنے ووٹر رام کرسکتا ہے؟ گڑے مردوں کو پھر کفنانے کا فیشن آن پہنچا ہے۔ تاریخ، نظریے، لاعلمی و کم علمی کی دیگ خواہشات کے چولہے پر چڑھ چکی ہے۔ درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھایا جا رہا ہے۔

اسی تناظر میں ہمارے پیارے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی اپنے حلقے میں انتخابی لانڈری لگا لی ہے۔ اپنے ووٹروں سے خطاب میں خود کو صادق اور امین ثابت کرتے ہوئے کہا ’کچھ لوگ اور کچھ جماعتیں مجھ سے خار کھاتی ہیں کہ میں اسلام کی بات کیوں کرتا ہوں۔ یار اگر تمہیں سیکولر ہونے پر فخر ہے۔ لادین ہونے پر فخر ہے تو مجھے اسلام پسند ہونے پر فخر ہے‘ ( تالیاں )۔

اگر کوئی راہ چلتا یہ کہے کہ سیکولر ازم لادینیت ہے، تو میں ہرگز دھیان نہ دوں۔ لیکن جب ایچیسن کا گریجویٹ اور پاکستان سے دہشت گردی کے اسباب کے خاتمے کا ذمہ دار وزیرِ داخلہ سیکولر ازم کو لادینیت سمجھ رہا ہو تو پھر مجھے اس پر نہیں ایچیسن کے اساتذہ پر غصہ آتا ہے جنھوں نے اپنے ذہین شاگردوں کو یہ تک نہ بتایا کہ سیکولر ازم کوئی مذہب نہیں بلکہ سیاسی نظریہ ہے اور لادینیت کے لیے انگریزی میں الگ سے ایک اصطلاح ’ایتھی ازم‘ کے نام سے کم ازکم دو سو برس سے موجود ہے۔ ایتھی ازم کا مطلب الحاد اور اسے ماننے والا ملحد کہلاتا ہے۔ یعنی جس کا کوئی مذہبی نظریہ نہ ہو۔

جبکہ سیکولر ازم کا مطلب ہے تمام عقائد کا یکساں انفرادی و اجتماعی احترام اور ان کے بارے میں ایک غیر جانبدارانہ مساوی ریاستی پالیسی۔ سیکولر نظریہ کثیر العقائد ریاستوں کا نظم و نسق چلانے کی ایک عملی تدبیر ہے جس کا مقصد ہے کہ کسی خاص مذہبی تشریح سے بچتے ہوئے سیاسی و اقتصادی معاملات بلا تعصب و جبر نمٹائے جائیں۔

مثلاً سب سے بڑے مسلمان اکثریتی ملک انڈونیشیا میں چھ مذاہب کو سرکاری درجہ دیا جاتا ہے۔ وسطی ایشیائی ریاستوں ( کرغزستان، ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان، قزاقستان، آزر بائیجان )، یورپ میں بوسنیا، کوسووو اور البانیہ کی مسلمان اکثریتی ریاستیں، مشرقِ وسطیٰ میں ترکی، شام و لبنان اور افریقہ میں مصر، تیونس، الجزائر، سینیگال، مالی، گنی، چاڈ، برکینا فاسو، سیکولر ریاستیں کہلائی جاتی ہیں۔ علاوہ شام باقی مذکورہ ریاستیں اسلامی کانفرنس کی رکن ہیں اور بعض تو سعودی قیادت میں 43 رکنی اسلامی اتحاد میں بھی شامل ہیں۔ اگر سیکولر ہونے کا مطلب لادین یا ملحد ہونا ہے تو کیا ان ممالک کا اسلامی کانفرنس میں رہنا ممکن ہوتا؟

شیخ الاسلام حسین احمد مدنی علیہہ رحمہ کے 76 سالہ صاحبزادے مولانا ارشد مدنی نے آٹھ برس کی عمر میں قرآن حفظ کیا۔ 1982 سے دارالعلوم دیو بند میں دورہِ حدیث کروا رہے ہیں۔ اس وقت جمیعت علماِ ہند کے صدر ہیں ۔وہی جمیعت علماِ ہند جس کی کوکھ سے جمیعت علماِ اسلام نے جنم لیا ۔ وہ ایک جلسہِ عام میں فرماتے ہیں:

'اس ملک ( بھارت) میں بیس کروڑ مسلمانوں، پانچ کروڑ کرسچنز نیز سکھوں، جینوں، ہریجنوں اور قبائل کی شکل میں بہت سی اقلیتیں آباد ہیں۔ اگر یہ ملک زندہ رہ سکتا ہے تو ایک سیکولر سٹیٹ اور دستور کے تحت ہی رہ سکتا ہے۔ ہندو سٹیٹ بن کر نہیں۔ ورنہ ملک میں امن و امان کو آگ لگے گی۔ کوچہ کوچہ اکثریت اور اقلیت کا خون بہے گا۔ دیکھو اپنے دائیں اور بائیں۔ وہاں کیا ہو رہا ہے؟ اگر وہ بری ہوائیں چل کر اس ملک میں پہنچ جائیں تو تمہارا کیا ہوگا، ہمارا کیا ہوگا؟ ہم حکومت نہیں اس ملک کی حفاظت چاہتے ہیں اور یہ حفاظت صرف ایک سیکولر سٹیٹ بن کر ہی ہو سکتی ہے۔'

یہ ہیں مولانا ارشد مدنی کے الفاظ۔ ان کی وڈیو انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ کوئی ہے جو مولانا مدنی کو ایک ہی سانس میں سیکولر، لادین یا ملحد کہے ؟ (مولانا ارشد مدنی کا ایک پیغام نوشہرہ میں جمیعت علمائے ہند و پاکستان کی حالیہ صد سالہ تقریبات میں پڑھ کر سنایا گیا کیونکہ وہ بوجہ علالت تشریف نہ لا سکے۔ البتہ جمیعت علماِ ہند کے سیکرٹری جنرل مولانا محمود مدنی اور دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا ابوالقاسم تشریف لائے)۔

ہاں ملحد ریاست دیکھنی ہو تو وہ بھی ہمارے پڑوس میں ہی ہے۔ وہاں کسی مذہب و متبادل نظریے کی تبلیغ و ترویج سنگین جرم ہے۔ سی پیک کے ایک کونے پر گوادر اور دوسرے سرے پر شن جیانگ کا صوبہ ہے۔ وہاں کی دو کروڑ آبادی میں سے اوغر مسلمان پچاس فیصد ہیں۔ کیا وہ صوبے کی آبادی کا نصف ہونے کے باوجود ایک خاص حد سے زیادہ داڑھی بڑھا سکتے ہیں؟ اپنی مرضی سے بچے کا کوئی بھی نام رکھ سکتے ہیں؟ رمضان میں کھانے پینے کی اپنی دکان بند کر سکتے ہیں؟ ان کے بچے روزہ رکھ کے سکول جا سکتے ہیں اور سکول میں لنچ لینے سے انکار کر سکتے ہیں؟ کیا ان کی عورتیں حجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر سکتی ہیں؟ اور یہ سب کچھ شن جیانگ میں دہشت گردی کی لہر روکنے کے نام پر ہو رہا ہے۔ شن جیانگ سے آنے والی یہ خبریں پاکستانی میڈیا بھی چھاپتا ہے۔ مگر سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے پر یقین رکھنے والا کوئی بھی سرکردہ پاکستانی عالمِ دین یا سیاستداں اس بابت رائے دینے سے گریزاں ہے۔

تو کیا میں سیکولر ازم اور لادینیت کو ایک سمجھنے والے اور بقولِ خود نہ دبنے، بکنے، جھکنے والے حساس طبیعت چوہدری نثار صاحب سے اس بابت کسی گرجیلے بیان کی توقع رکھوں؟

اسی بارے میں