پشاور: ڈینگی، دو سو سے زائد افراد متاثر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صوبے کے اکثر علاقوں میں حکومت کی جانب سے ڈینگی کے خاتمے کے لیے کوئی سپرے نہیں کیا گیا ہے

صوبہ خیبر پختونخواہ میں ڈینگی بخار کے مریضوں کی تعداد دو سو دس ہو گئی ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان مریضوں میں سے زیادہ تر نے صوبہ پنجاب کا سفر کیا تھا۔

اس وقت صوبہ خیبر پحتونخواہ کے مختلف ہسپتالوں میں پینسٹھ سے زیادہ مریض داخل ہیں جبکہ باقی مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔

ڈینگی کی صنعت!

ڈینگی کے حوالے محکمہ سحت کے فوکل پرسن ڈاکٹر ضیاء الحسنین نے بی بی سی کو بتایا کہ ہزارہ ڈویژن کے شہر ایبٹ آباد، ہری پور اور مانسہرہ سب سے زیادہ متاثر علاقے ہیں جبکہ مردان اور پشاور میں بھی ڈینگی سے متاثرہ مریض آئے ہیں۔

صوبہ بھر میں اب تک ڈینگی سے پانچ افراد ہلاک ہو ئے ہیں جن میں سے چار کا تعلق ہری پور اور مانسہرہ سے تھا جبکہ ایک کا تعلق مردان سے بتایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں ڈینگی سے متاثرہ افراد میں بیشتر کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ انھوں نے لاہور یا پنجاب کا سفر کیا تھا جس کے بعد وہ بیمار ہوئے تھے۔

پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں اس وقت سترہ مریض زیر علاج ہیں جبکہ ہسپتال کے فوکل پرسن ڈاکٹر فاروق کے مطابق چالیس سے زیادہ مریض علاج کے لیے آئے تھے۔

صوبے کے اکثر علاقوں میں حکومت کی جانب سے ڈینگی کے خاتمے کے لیے کوئی سپرے نہیں کیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ نجی سطح پر لوگ گھروں میں سپرے کرا رہے ہیں۔ صوبائی دارلحکومت پشاور کے مختلف علاقوں میں مچھروں کی بھر مار ہے۔

اسی بارے میں