پنجاب حکومت کے ساتھ کسانوں کے مذاکرات کامیاب، لاہور میں دھرنا ختم

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI
Image caption پاکستان کسان اتحاد کے کارکن بجلی کے یکساں نرخ، کھاد، زرعی ادویات پر جنرل سیلز ٹیکس ختم کرنے کے لیے منگل کے روز لاہور کے باغ جناح میں جمع ہوئے تھے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں پاکستان کسان اتحاد نے حکومت پنجاب کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد لاہور پر دو دن سے جاری احتجاجی دھرنا ختم کردیا ہے۔

تاہم کسان اتحاد کے رہنما صفدر نول کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مطالبات پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں کسان پھر لاہور کا رخ کرسکتے ہیں۔

لاہور سے صحافی عبدالناصر خان نے بتایا کہ صفدر نول کا کہنا ہے کہ وزیراعلٰی شہبازشریف سے مذاکرات رات گئے مال روڈ پر واقع وزیراعلٰی سیکریٹریٹ میں ہوئے۔

٭ لاہور میں کسانوں کا احتجاجی مارچ: تصاویر

٭ بلدیاتی انتخابات میں ’پاکستان کسان اتحاد‘ کا جنم

صفدر نول کے مطابق وزیراعلٰی شہباز شریف کے حکم پر گرفتار کیے گئے تمام کسانوں کو فوری طور پر رہا کر دیا گیا جبکہ کھاد کی فی بوری قیمت میں دو سو روپے کمی کا اعلان اور پوٹاش کی قیمتوں میں کمی کا یقین دلایا گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ وزیراعلٰی نے انہیں بتایا کہ زرعی ادویات پر عائد جنرل سیلز ٹیکس ختم کردیا گیا ہے جبکہ کھاد پر جی ایس ٹی 17 فیصد سے کم کرکے سات فیصد کردیا گیا ہے۔

صفدر نول نے بتایا کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کسانوں کے لیے بجلی کا ایک ہی فلیٹ ریٹ مقرر کرنے کے لیے وفاقی حکومت سے بات کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کارکنوں کی رہائی اور بعض مطالبات کے فوری تسلیم کیے جانے اور دیگر پر عملدرآمد کی یقین دہانی پر کسانوں نے منگل سے جاری اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا اور تمام احتجاجی کسان پرامن طور پر گھروں کو لوٹ گئے ہیں۔

صفدر نول نے بتایا کہ کسانوں کے ساتھ کیے گئے تمام وعدوں پر عملدرآمد کے لیے ایک ماہ تک کا وقت دیا گیا ہے جس کے بعد کسان پھر لاہور کی سڑکوں پر ہوں گے۔

پاکستان کسان اتحاد کے کارکن بجلی کے یکساں نرخ، کھاد، زرعی ادویات پر جنرل سیلز ٹیکس ختم کرنے کے لیے منگل کے روز لاہور کے باغ جناح میں جمع ہوئے تھے۔

احتجاج کے لیے مال روڈ پر آنے سے قبل پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے تقریباً پانچ سو کسانوں کو گرفتارکرلیا تھا۔

تاہم کسان دوبارہ داتا دربار جمع ہوئے اور مال روڈ کی جانب مارچ کرتے ہوئے اسمبلی ہال کے سامنے پہنچ گئے جہاں انھوں نے منگل کی رات اور بدھ کو سارا دن دھرنا دیے رکھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں