جنگ گروپ کے مغوی ڈائریکٹر اسلام آباد سے برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption عابد عبداللہ کا تعلق لاہور سےہے اور انھیں پشاور پہنچنے پر اغوا کیا گیا تھا

پشاور سے بدھ کی شب اغوا کیے جانے والے پاکستان کے ایک بڑے میڈیا گروپ ’جنگ‘ کے ڈائریکٹر کوارڈینیشن عابد عبداللہ کو جمعرات کی شب اسلام آباد میں رہا کر دیا گیا۔

عابد عبداللہ کو قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے متصل حیات آباد انڈسٹریل ایریا سے نامعلوم افراد نے اسلحے کے زور پر اغوا کیا تھا۔

عابد عبداللہ کے بھائی حامد عبداللہ نے بی بی سی سے مختصر بات چیت میں صرف اتنا بتایا ہے کہ عابد خیریت سے گھر پہنچ گئے ہیں اور اغوا کار انھیں اسلام آباد میں کسی مقام پر چھوڑ گئے تھے۔

جنگ گروپ کے ڈائریکٹر پشاور سے اغوا

ان کا کہنا تھا کہ عابد تھکے ہوئِے تھے اور وہ آرام کرنا چاہتے تھے اس لیے ان سے تفصیلی بات نہیں ہو سکی۔

جنگ اخبار کے پشاور میں ریزیڈنٹ ایڈیٹر ارشد عزیز ملک نے بتایا کہ عابد عبداللہ جمعرات کی رات اسلام آباد میں جیو کے دفتر پہنچے تھے۔

عابد عبداللہ کے اغوا کے واقعے کے بعد پولیس حکام نے ان کی بازیابی کے لیے کوششیں شروع کر دی تھیں۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس کاشف ذوالفقار نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک اغوا کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ راستے میں کینٹ پولیس ٹریفک پولیس اور آرمی کے کیمرے نصب ہیں لیکن چونکہ یہ رات کا وقت تھا اور اندھیرے کی وجہ سے اس میں کچھ واضح نظر نہیں آ رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات سے ایسا لگیا ہے کہ اس اغوا میں ریاست مخالف قوتوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق تحقیقات میں جس راستے سے عابد عبداللہ کو لے جایا گیا وہاں راستوں سے تمام کیمروں کی ریکارڈنگ حاصل کی گئی ہے اور اس کے علاوہ موبائل فون کی جیو فینسنگ کرائی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق عابد عبداللہ انڈسٹریل سٹیٹ میں جنگ اخبار کی پرنٹنگ پریس کا معائنہ کرنے آئے تھے۔ پریس کا معائنہ کرنے کے بعد وہ ہوٹل جا رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم افراد انھیں اسلحے کے زور پر ساتھ لے گئے۔

عابد عبداللہ کے ڈرائیور نے پولیس کو بتایا کہ آٹھ سے دس افراد نے اسلحے کی نوک پر انھیں روکا اور دو سے تین افراد ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئے اور پشاور میں جی ٹی روڈ پر فردوس سٹاپ کے پاس ڈرائیور کو کہا کہ تم گاڑی میں بیٹھے رہو اور مسلح افراد عابد عبداللہ کو دوسری گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔

پشاور میں جنگ اخبار کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ارشد عزیز ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ عابد عبداللہ کو انڈسٹریل سٹیٹ سے اغوا کرنے کے بعد قبائلی علاقے کی طرف نہیں جایا گیا بلکہ پشاور شہر کی طرف لایا گیا جہاں راستے میں پولیس اور فوج کی دو دو چوکیاں قائم ہیں اور انھیں راستے میں کسی نے نہیں روکا۔

انھوں نے بتایا کہ ڈرائیور کے مطابق گاڑی میں بیٹھے مسلح افراد نے عابد عبداللہ کو بتایا کہ وہ انھیں پیسوں کی خاطر اغوا نہیں کر رہے بلکہ ابھی تو ان کے اور ساتھیوں نے بھی آنا ہے۔

ارشد عزیز کے مطابق حیران کن بات یہ ہے کہ وہ جس شام پہنچے اسی رات کو اغوا کر لیے گئے لیکن انھیں نہ تو کوئی ایسی دھمکیاں ملیں یا کوئی بھتے کے حوالے سے کوئی پیغام ملا تھا اب معلوم نہیں ہے کہ انھیں کس نے اغوا کیا ہے ۔

اسی بارے میں