لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کے دونوں جانب آبادی کی نقل مکانی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ورکنگ باؤنڈری پر دو سے تین کلو میٹر کے فاصلے میں پاکستانی حدود میں موجود تقریباً 25 دیہاتوں کے افراد عارضی طور پر نقل مکانی کر رہے ہیں

پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی میں اضافے اور لائن آف کنٹرول پر انڈیا کی فائرنگ کے واقعات کے بعد لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کے اردگرد دیہات میں رہنے والے افراد میں خوف پایا جاتا ہے اور وہ کسی بھی خطرے کے پیشِ نظر عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔

نارووال کے قریب ورکنگ باؤنڈری کے علاقے میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس سرحد پر دو سے تین کلومیٹر کے فاصلے میں پاکستانی حدود میں موجود تقریباً 25 دیہات کے افراد عارضی طور پر نقل مکانی کر رہے ہیں۔

پاکستانی علاقے بڑے بھائی مسرور سے شکرگڑھ، سیالکوٹ تک ورکنگ باؤنڈری کے علاقے میں مجموعی طور پر 120 دیہات ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان میں سے 12 دیہات ایسے ہیں جہاں کے رہائشی دن میں اپنے علاقے میں کام کاج کے لیے واپس آ جاتے ہیں اور شام ڈھلتے ہی محفوظ علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔

ان افراد کا کہنا ہے کہ اُن کا ذریعۂ معاش کھیتی باڑی اور گلہ بانی ہے اس لیے وہ مکمل طور پر اپنا علاقہ نہیں چھوڑ سکتے۔

نامہ نگار کے مطابق ورکنگ باؤنڈری کے قریب رہنے والے افراد میں خوف پایا جاتا ہے جبکہ پاکستان کی حدود میں تعینات رینجرز کے اہلکاروں نے بھی اپنی غیر ضروری نقلِ و حرکت روک دی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ورکنگ باؤنڈری کے پار انڈیا کے علاقے میں بھی سکیورٹی اہلکاروں اور عوام کی نقل و حرکت محدود دکھائی دیتی ہے۔

ادھر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق لائن آف کنٹرول کے قریب رہنے والی آبادی اور حکام میں تشویش ہے کہ انڈیا کے 'سرجیکل سٹرائیکس' کے دعوے کے بعد پاکستانی فوج کے ردعمل سے سرحد پر آباد لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ جموں خطے کے بعض سرحدی ضلعوں میں انتظامیہ نے تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کر دیا ہے اور سکولوں کی عمارتوں کو عارضی پناہ گاہوں کے طور استعمال کیا جا رہا ہے۔

جموں کے ڈسٹرکٹ مجسڑیٹ سمرن دیپ سنگھ کے مطابق پاکستان کے ساتھ لگنے والی ورکنگ باونڈری کے کھوڑر، جوڑیاں، مڑھ، رنبیرسنگھ پورہ، ست واری، اکھنور، بشناہ اور میران صاحب نامی علاقوں میں تمام سکول بند کر دیے گئے ہیں۔

سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ تقریباً 20 ہزار افراد ان علاقوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں جن میں سے بیشتر افراد سرحد سے دور اپنے رشتہ داروں کے یہاں منتقل ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Empics

سکولوں اور دوسری سرکاری عمارتوں میں قائم عارضی پناگاہوں میں سرکاری ادارے اور سماجی رضاکار وہاں پناہ لینے والوں کے کھانے پینے کا انتظام کررہے ہیں۔

جمعہ کے روز بھی انڈین فوج نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی افواج نے جموں کے اکھنور سیکٹر میں بھارتی اہداف پر فائرنگ کی جس سے ملحقہ آبادیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

نامہ نگار کے مطابق شمالی کشمیر میں اوڑی، نوگام اور کرناہ سیکٹروں میں بھی فوجی نقل و حمل سے جنگ جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ جنوبی کشمیر کے پونچھ سیکٹر میں بھی ایل او سی کے قریبی علاقوں میں الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

بارہمولہ کے معروف ڈاکٹر خورشید احمد کا کہنا ہے کہ فوج نے لائن آف کنٹرول کے قریب اپنے لیے حفاظت کا انتظام تو کر لیا ہے لیکن لاکھوں لوگ جو اس خطرناک سرحد کے قریب آباد ہیں، انھیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں