'سنا ہے کوئی جنگ کی دعائیں کرتا ہے'

عدنان سمیع تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

گذشتہ کئی دنوں سے انڈیا میں پاکستان فنکاروں کو کام نہ کرنے دینے اور پاکستان میں انڈین فلموں کی نمائش روکنے کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر بھی دونوں جانب سے فنکار پاکستان بھارت تعلقات کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

انڈیا کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے پار پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں سرجیکل سٹرائیک کے دعوے کے بعد کچھ بھارتی فنکاروں کی جانب سے کھل کر اس اقدام کی حمایت کی گئی۔ یہی وجہ ہے کے جمعے کو پاکستانی سوشل میڈیا پر خاصی گرما گرمی کا ماحول رہا۔

بالی وڈ سٹار شاہ رخ خان، گلوکارہ آشا بھوسلے اور عدنان سمیع سمیت متعدد انڈین فنکاروں کی جانب سے فوج اور حکومت کے بارے میں تعریفی آرا کا اظہار کیا گیا۔

پاکستان میں ٹوئٹر پر گلوکار عدنان سمیع کا نام سرفہرست ٹرینڈز میں شامل رہا اور اس کی وجہ تھی ان کے دو ٹویٹس۔ عدنان سمیع نے اپنے پہلے ٹویٹ میں کہا تھا وہ ’وزیراعظم نریندر مودی اور بہادر مسلح افواج کو دہشت گردی کے خلاف بہترین، کامیاب اور میچور سرجیکل سرٹرائیک پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ان کے اس ٹویٹ کو جہاں انڈین ٹوئٹر صارفین نے بے حد پسند کیا وہاں متعدد پاکستانی صارفین کی جانب سے اس کے خلاف سخت الفاظ کا استعمال کیا گیا۔ جس کے بعد انھوں نے مزید ایک ٹویٹ کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستانی میرے پہلے ٹویٹ پر نالاں ہیں۔ ان کے غصے کا صاف مطلب ہے کہ دہشت گردی اور پاکستان یکساں ہیں۔'

عدنان سمیع کے اس بیان کے بعد ایک بار پھر پاکستانی سوشل میڈیا پر ان کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا۔

خیال رہے کہ عدنان سمیع کو انڈیا میں طویل عرصہ قیام کے بعد رواں سال کے آغاز میں انڈین شہریت دی تھی۔

عدنان سمیع کے انڈین مداحوں کا سوشل میڈیا پر کہنا ہے کہ عدنان سمیع اب ایک انڈین شہری ہیں اور 'دہشت گردی' کے خلاف ان کے بیان پر پاکستانیوں کو برا نہیں منانا چاہیے۔

تاہم پاکستانیوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ عدنان سمیع شاید کچھ زیادہ ہی وفاداری کا اظہار کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ایک پاکستانی صارف فیفو نے ان سے سوال کیا: 'آپ کو اس بات کا اختیار کس نے دیا ہے کہ آپ اپنے ذاتی عداوت کی بنا پر تمام افراد پر ایک لیبل لگائیں؟'

سعادت علی ضیا کا کہنا تھا کہ 'وہ دہشت گردی کی مذمت نہیں کر رہے بلکہ انڈینز میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔'

عدنان سمیع کے علاوہ گلوکارہ آشا بھوسلے کے ٹویٹس پر بھی خاصی گرما گرمی رہی جس میں انھوں نے پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 'میں نے تو گالیاں دینے والے کتوں کی بات کی تھی پاکستانی کیوں برا منا رہے ہیں۔'

کئی پاکستانیوں کو شاہ رخ خان کی انڈین فوج کے لیے کی گئی ایک ٹویٹ بھی ناگوار گزری جس میں انھوں نے کہ کہا کہ وہ انڈین فوجیوں کے لیے دعا گو ہیں۔

اس کے جواب میں ان کے ایک پاکستانی مداح شعیب نیازی کا کہنا تھا کہ اب وہ شاہ رخ خان کی فلمیں نہیں دیکھیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

بالی وڈ اداکار ارجن رام پال نے ٹویٹ کیا کہ 'دہشت گردی سے انہی کی زبان میں بات کرنے پر انہیں انتہائی فخر ہے' جس میں جواب میں پاکستانی گلوکارہ قرۃالعین بلوچ یہ کہے بغیر نہ رہ سکیں کہ 'آپ کا مطلب ہے کہ سچائی کو مسخ کرکے مزید اشتعال پیدا کرنا؟ دہشت گردی کی اصطلاح استعمال کرنے سے پہلے حقائق پر جراح کرنے کی کوشش کریں۔'

بھارتی گلوکار سونو نگھم نے چند دن پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ دو اکتوبر کو گڑگاؤں میں ہونے والے کنسرٹ کے لیے عاطف اسلم کو پرفارمنس کے لیے لائے ہیں تاکہ وہ دکھا سکیں کہ کشیدگی کے شکار دو ممالک کے فنکار کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ تاہم اب اس کنسرٹ کے منسوخ ہونے کی خبریں بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

حالیہ صورتحال کے بارے سونو نگھم نے یہ شعر ٹویٹ کیا ہے:

دل نے دماغ کو دھر دبوچا ہے شاید

سنا ہے کوئی جنگ کی دعائیں کرتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter