جنگ میں میڈیا کا کردار: ’جب کشیدگی بڑھانا کاروباری مفاد بن جائے‘

انڈین میڈیا تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مفاد ہے کہ جواکثر صحافیوں کو 'وار کارسپانڈنٹ' بننے پر زیادہ مجبور کرتا ہے

پاکستان اور انڈیا اُڑی جیسے چوراہوں پر کئی مرتبہ آمنے سامنے آئے ہیں۔ ماضی کی کئی دہائیاں ہم نے کارگل، لال قلعے، انڈیا پارلیمان، ممبئی اور پٹھان کوٹ دیکھے۔ دونوں ممالک کی حکومتوں، افواج اور میڈیا نے بظاہر ایک طریقہ کار (ایس او پی) وضح کر لیا اور ہر کوئی اسی موڈ میں چلا جاتا ہے۔ اس سے بہتری تو درکنار بظاہر ابتری زیادہ پیدا ہو رہی ہے۔

میڈیا کو ہی لے لیں۔ پچھلے پندرہ برسوں میں جو لائن لے رہے ہیں وہی آج بھی ہے۔ لنن نے کہیں کہا تھا کہ ’جنگ بری چیز ہے لیکن بری طرح سے منافع بخش بھی ہے۔‘ دونوں ممالک کے میڈیا کے لیے یقینا کچھ ایسا ہی ہے۔ ریٹنگز ان دنوں میں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔ ٹی وی اور ٹاک شوز سے متنفر لوگ بھی بھیگی بلی کی طرح سکرین کے سامنے لوٹ آتے ہیں۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے محمد عامر رانا کہتے ہیں کہ ملکوں کے درمیان کشیدگی کی وجوہات سیاسی، معاشی یا سٹرٹیجک ہو سکتی ہیں۔

’ریاستیں اس کشیدگی کے دوران میڈیا کو استعمال کرنے کی کو شش کرتی ہیں۔ اب یہ صحافی پر ہے کہ پروفیشنل تقاضوں کو کیسے پورا کرتا ہے یا انہیں قربان کر دیتا ہے۔ سنجیدہ صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کشیدگی بڑھانا میڈیا اور صحا فیوں کا کاروباری مفاد بن جائے۔‘

شاید یہی مفاد ہے کہ جواکثر صحافیوں کو ’وار کارسپانڈنٹ‘ بننے پر زیادہ مجبور کرتا ہے۔ یہ کاروباری مفاد میڈیا مالکان کا بھی ہوتا ہے لیکن عام سامع، ناظر اور پڑھنے والے کے لیے جنگی طبل تشویش، ناامیدی، سنسنی پھیلانے اور افراتفری میں اضافے کا ہی سبب بنتے ہیں۔

حقوق انسانی کے سینیئر کارکن اور تجزیہ کار آئی اے رحمان نے انگریزی اخبار ڈان میں اپنے ایک تازہ مضمون میں لکھا کہ دونوں ممالک کے میڈیا نے ان تلخیوں اور تنازعات کے درمیان نفرتیں بڑھائی ہی ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ ’میڈیا اس لکیر کو بھول گیا جو قوم پرستی کو انسانیت سے علیحدہ کرتی ہے۔‘

Image caption پاکستان کی حد تک امید کی جاسکتی ہے کہ میڈیا کے فروغ کے بعد کارگل جیسی کارروائی اب شاید ممکن نہ ہو

یہ المیہ ہے جس کا یہ خطہ یرغمال بنا ہوا ہے۔ غربت، بھوک افلاس اور بےروزگاری اپنی جگہ لیکن میڈیا کے لیے جنگ اسی وقت شروع ہو جاتی ہے جب کہیں کوئی حملہ ہوتا ہے۔

پاکستان کی حد تک امید کی جاسکتی ہے کہ میڈیا کے فروغ کے بعد کارگل جیسی کارروائی اب شاید ممکن نہ ہو۔ وہ بھی تب اگر میڈیا ریاستی اداروں پر واضح کر دے کہ ایسی کسی کارروائی کو کوئی قومی کور نہیں دیا جائے گا۔ بھارت پر اُڑی میں چونکہ حملہ ہوا ہے لہذا کسی حد تک اس کا بھنانا شاید جائز بھی ہے لیکن اس اضطراب اور سرکشی کی کوئی حد بھی یقینا ہوگی۔

اگر صحافی اور اینکر ایک ملک کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی للکار لگا رہے ہوں تو اس میں صحافت کا تو جنازہ نکل گیا۔ ایک دوسرے سینیئر صحافی نے لکھا کہ ’اب پاکستان کے ساتھ بندوق کے ذریعے بات کرنی چاہیے۔‘

اُڑی کے جواب میں بھارتی کارروائی کارگل کے بعد پہلی باضابطہ محدود پیمانے کی جنگ ہے جو لڑی گئی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ میڈیا کی موجودگی میں اب جنگ نہیں ہوگی۔ لیکن میڈیا تو اس کا پورا انتظام کرنے کے چکروں میں دکھائی دیتا رہا ہے۔ جنگ کی تباہی دیکھانے کی بجائے وہ دانت کھٹے کرنے کے شوق میں مبتلا ہے۔

بہتر تو یہ ہوتا کہ جنگی رپورٹر کے بجائے امن رپورٹر زیادہ تعداد میں ہوتے لیکن آج کل تو امن کے داعی بیک فُٹ پر دکھائی دیتے ہیں۔ جنگی جنون سے شرشار میڈیا ان کو جگہ اور وقت دینے کا متمنی نہیں۔

ضرورت شاید اس وقت دونوں ممالک کے آزاد میڈیا کے درمیان ایسے کشیدہ حالات میں ایک نئے ضابطہ اخلاق یا کوڈ آف کنڈکٹ کی ہے۔ حکومتیں جو کرتی رہیں کریں میڈیا اپنی آذاد حیثیت منوانے کی کوشش کرے۔

اسی بارے میں