پھٹا پوسٹر، نکلا ہیرو!

Kashmir تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

کچھ لوگ پیدائشی ہیرو ہوتے ہیں اور کچھ کو قسمت ہیرو بنا دیتی ہے۔ ہر تحریک کا ایک ہیرو ہوتا ہے اور تحریک کامیاب ہونے کے بعد، اس کی تصویریں اداروں میں ٹانگی جاتی ہیں، اس پہ ترانے لکھ جاتے ہیں اور مائیں اپنے بچوں کے نام اس کے نام پہ رکھتی ہیں۔

جانے کیوں مجھے لگتا ہے کہ کشمیر میں جاری اس طویل تحریکِ آزادی کے اصل ہیرو کو کوئی پہچان نہیں پا رہا۔ اگر میں اس ہیرو کا نام ابھی بتا دوں گی تو ممکن ہے آپ میں سے بہت سے آگے پڑھیں ہی نہ، اسی لیے میں ہیرو کانام آخر میں بتائوں گی۔ ابھی آپ صرف اس ہیرو کی جدو جہد دیکھیے۔

ایک سادہ سا نوجوان، کمانڈو لباس میں اپنی تصویریں سماجی رابطوں کی سائٹوں پہ لگا تا تھا، جس سے بہت سے لوگ اس کی طرف متوجہ ہو چکے تھے، جن میں ایک بڑی تعداد جوانوں کی تھی۔ اس جوان کو مار دیا گیا۔ اس کی موت سے کشمیر کی نوجوان نسل جو ٹوئٹر اور فیس بک کے دور میں پیدا ہوئی تھی اور تحریکِ آزادی سے کافی حد تک انجان تھی، چونک اٹھی۔

برہان کے جنازے میں جوانوں کی بہت بڑی تعداد تھی اور ان میں ہندوستان کی حکومت کے خلاف غصہ تھا جو ظاہر ہے زندہ برہان پیدا نہیں کر سکتا تھا۔ اس جلوس پر چھرے فائر کیے گئے، جس سے سینکڑوں لوگ، جن میں اکثریت جوانوں کی تھی اپنی بینائی کھو بیٹھے اور بے شمار لوگ مارے گئے۔ اس سے نہ صرف ان نو جوانوں کو بلکہ پوری دنیا کو یقین ہو گیا کہ کشمیر ایک مفتوحہ علاقہ ہے جہاں فاتح فوج اپنی رٹ قائم کر رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اجلاس سے پہلے اوڑی میں جو کچھ ہوا اور جس سرعت سے اس کے مجرم تلاش کر لیے گئے، اس نے پاکستان کی اس نئی نسل کے سوالوں کو جواب بھی دے دیے جو پوچھتی تھی کہ پاکستان کیوں بنا تھا۔

ساری دنیا، جس کی نظر اس وقت کشمیر پہ تھی، جان گئی کہ کشمیر کا مسئلہ کس نے الجھا رکھا ہے۔ کون بات نہیں کرنا چاہتا اور کون ہر بار مذاکرات کی میزیں الٹا کر بھاگ جاتا ہے۔

خیر، فوراً ہی پانی بند کرنے کی دھمکی دے دی گئی۔ پا کستانی کسان جو پہلے ہی اپنے حالات کے خلاف احتجاج کرتے پھر رہے تھے اور کشمیر ان کے لیے لائن آف کنٹرول کے بس ادھر ہی تھا، کھٹکے۔ پانی کیوں بند کیا جائے گا؟ تب انھیں تفصیل سے مسئلۂ کشمیر سمجھنے کا مو قع ملا، اور وہ جو اپنے ملک کے بہت سے اداروں سے بد دل ہوئے بیٹھے تھے، مان گئے کہ کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو ہندوستان ہمیں بھوکا مار دے گا۔

امن کی آشا رکھنے والے فنکاروں کو حکومت نواز گروہوں نے بھارت چھوڑنے کا حکم دیا۔ پاکستانی ڈرامے اور پاکستانی اداکاروں کی فلمیں بند کرنے کی دھمکی دی۔ فن کار آپ جانیے سیدھے لوگ ہوتے ہیں ان کو کسی درسی کتاب میں لکھے مسئلۂ کشمیر سے کبھی دلچسپی نہیں رہی ہوتی۔ لیکن اب ان کو بھی خوب سمجھ آ گیا کہ واقعہ کیا ہے۔

'دوستی' بس بند ہوئی، لائن آف کنٹرول پہ فائرنگ ہوئی۔ جنگ کی دھمکیاں دی گئیں۔ پاکستان کی نئی نسل، ہندوستان کی نئی نسل، جو اب سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہیں، سب کو بخوبی معلوم ہو گیا کہ مسئلۂ کشمیر کیا ہے اور اس کے حل کے بغیر، نہ پاکستان ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی ہندوستان۔ اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو دونوں طرف کے لوگ جنگ کی آگ میں جل کر مر جائیں گے۔

یہ سب خدمات تعلقاتِ عامہ کا بڑے سے بڑا ماہر سر انجام نہیں دے سکتا تھا۔ لیکن ہندوستان کے مردم خیز خطے ہی میں کشمیر کی اگلی نسل کا محسن پیدا ہوا۔ نریندر مودی کی ان تھک کوششوں سے ہندوستان اور پاکستان کے طول و عرض میں بچے بچے کو مسئلۂ کشمیر، اس کی اہمیت اور اس کا حل معلوم ہو گیا ہے۔ دو نسلوں پہ جاری یہ جدوجہد دنیا کی نگاہ سے اوجھل ہو چکی تھی۔ اسے دوبارہ ایسے دنیا کے سامنے لانا کہ کشمیریوں کی مظلومیت اور بھارت کا اس مسئلے کے ذکر پہ دیوانہ سا ہو کے 'جنگ، جنگ' کا شور مچا دینا، سب واضح ہو جائیں، اس کے لیے ایک زمانہ ساز انسان کی ضرورت تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یہ کام برہان وانی کبھی نہیں کر سکتا تھا۔

ہندوستان کی فلمیں مشہور ہیں، ہیرو بھی مشہور ہیں۔ مودی جی کبھی اپنے نام کی لائنوں والا سوٹ پہنتے تھے، کبھی کچھ اور جتن کرتے تھے، یہ تو انھیں بڑی دیر میں معلوم ہوا کہ ہیرو بننے کے لیے کیا کرنا چاہیئے۔

چونکہ مودی جی کی یہ ساری کوشش نئی نسل کو کشمیر کے مسئلے سے آگاہ کرنے اور اس کے حل کی طرف مائل کرنے کے لیے تھی، اسی لیے انھوں نے سکرپٹ میں جدت رکھی۔ (آخر کو مودی جی، جن کے دل میں گائیوں تک کے لئے محبت ہے، انسانوں کے دشمن اور جنگ کے حامی کیسے ہو سکتے ہیں۔)

کل مورخ لکھے گا کہ کشمیریوں کی داستانِ حریت کو دنیا کے سامنے لانے والا، انھیں آزادی دلانے والا، کوئی اور نہیں، نریندر مودی تھا۔ واہ مودی جی، پورس کے ہاتھی یاد دلا دیے!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں