افغانستان میں مقیم پاکستانی متاثرین کو ایک ہفتے کے اندر پاکستان لایا جا سکتا ہے: حکام

Zarb e Azb تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب جون 2014 میں شروع کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کی تھی

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی کے حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مقیم پاکستانی متاثرین کو ایک ہفتے کے اندر پاکستان لایا جا سکتا ہے لیکن افغانستان کی جانب سے کوئی تعاون نہیں کیا جا رہا۔

افغانستان میں اب تک کل دس ہزار کے قریب افراد نے پولیٹیکل انتظامیہ کو فارم دیے ہیں کہ وہ اپنے وطن لوٹنا چاہتے ہیں۔

شمالی وزیرستان ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کیپٹن ریٹائرڈ کامران آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس دس ہزار افراد کے فارم پہنچ چکے ہیں اور اس کے لیے انھوں نے سخت محنت کی تھی اور اس مقصد کے لیے ایجنسی سے قبائلی رہنماؤں کو افغانستان بھیجا گیا تھا۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ ان متاثرین کی واپسی کیوں نہیں ہو رہی تو ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی جانب سے تعاون نہیں کیا جا رہا اور جن قبائلی رہنماؤں کو انھوں نے افغانستان بھیجا تھا انھیں دو مرتبہ مارا پیٹا گیا اور ان سے فارم لے کر جلائے گئے ہیں۔

کامران آفریدی کے مطابق وہ ایک ہفتے کے اندر اندر متاثرین کا واپسی کا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں اور انھیں شمالی وزیرستان کی غلام خان چیک پوسٹ سے لایا جائے گا۔

یہاں ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ پاکستان حکومت نے افغان حکام اور افغانستان میں تعینات اتحادی افواج سے بھی رابطہ کیا تھا کہ متاثرہ پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

افغانستان کے صوبہ خوست میں واقع گلونو نامی ایک کیمپ سے سات ہزار سے زیادہ افراد نے واپسی کے لیے پولیٹکل انتظامیہ کو فارم دیے ہیں۔

اس کیمپ میں موجود پاکستانیوں نے بتایا کہ طورخم کے راستے انھیں نہیں چھوڑا جا رہا جبکہ غلام خان کی سرحدی چوکی بند ہے۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے محمد مختیار نے بتایا کہ انھوں نے اپنے فارم حکام کو دیے ہیں لیکن کوئی عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔

محمد مختیار نے بتایا کہ انھوں نے پاکستان حکومت سے جرگے کیے ہیں اور فارم بھی حکام کو بھیجے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے اقدامات نہیں ہو رہے جس وجہ سے یہاں مقیم متاثرین بدظن ہو گئے ہیں کہ ان کے قبائلی رہنما ان کے لیے کچھ نہیں کر رہے۔

افغانستان کی جانب ان لوگوں نے نقل مکانی کی ہے جو شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد کے قریب مقیم تھے۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب جون 2014 میں شروع کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کی تھی۔ اس میں سب سے زیادہ متاثرین خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں پہنچے تھے۔

اسی بارے میں