پارلیمانی جماعتوں کا کشمیر سے متعلق مشترکہ کوششوں پر اتفاق

kashmir, political parties, parliament, session تصویر کے کاپی رائٹ PM House
Image caption پارلیمانی جماعتوں نے وزیراعظم کی جانب سے مسئلہ کشمیر سے متعلق مشترکہ اجلاس بلوانے کے فیصلے کو سراہا

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیرِ صدارت پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں شریک رہنماؤں نے مسئلہ کشمیر پر حکومت کا ساتھ دینے اور مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورتحال اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے بارے میں پیر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اجلاس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انڈین جارحیت اور لائن آف کنٹرول میں فائرنگ خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔

٭ انڈیا نے کسی پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی وہ زمین کا بھوکا ہے: نریندر مودی

٭ انڈیا کے جارحانہ عزائم علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں: نواز شریف

٭ ’فوج کو مغربی سے مشرقی سرحد پر منتقل نہیں کرنا چاہتے‘

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی عوام مسلح افواج کے ساتھ مل کر کسی بھی بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس اعلامیے میں تمام سیاسی جماعتوں نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین فوجیوں کی طرف سے انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

اعلامیے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ انڈیا مسئلہ کشمیر سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کے لیے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کر رہا ہے اور پارلیمانی جماعتوں کے رہنماوں نے انڈین جارحیت کا موثر جواب دینے پر پاکستانی مسلح افواج کے اقدام کو سراہا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی عوام اور تمام سیاسی جماعتیں کشمیریوں کے حق خودارادیت کی مکمل حمایت کرتی ہیں اور مطالبہ کرتی ہیں کہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت حل کروایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PM house
Image caption کشمیر کے معاملے پر پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ ہے: بلاول بھٹو

اعلامیے میں کشمیریوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا گیا۔

اس اعلامیہ میں بھارت کی طرف سے اس کے زیر انتظام کشمیر کو انڈیا کا حصہ قرار دینے کے دعوے کی شدید الفاط میں مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ بھارت ہی مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر گیا تھا۔

اس سے پہلے وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی اہمیت کے معاملات خصوصاً کشمیر کے حوالے سے ہم سب اکھٹے ہیں۔ ان کا کہنا تھا انڈیا اپنی جارحیت سے کشمیر کی تحریک کو کچل نہیں سکتا۔

انھوں نے کہا کہ کشمیریوں کی حالتِ زار کو عالمی اسطح پر اجاگر کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر انتھک کوششیں کی جائیں گی۔

وزیرِاعظم نے سیاسی جماعتوں کے مشوروں ہر ہر ممکن عمل کرنے کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ آج کے اجلاس سے پاکستان اور کشمیر کاز دونوں مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں گذشتہ تین ماہ سے جاری احتجاجی لہر کے دوران اب تک 90 سے زیادہ افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ انڈیا کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف وزریوں سے توجہ ہٹانے کے لیے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور اوڑی حملے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانے جیسی کوششیں کر رہا ہے۔

وزیرِ اعظم سیکریٹیریٹ میں جاری اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری، خورشید شاہ، مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی، شاہ محمود قریشی، غلام احمد بلور، حاصل بزنجو اور فاروق ستار سمیت دیگر اہم سیاسی رہنما شریک ہوئے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے اجلاس میں شامل سیاستی جماعتوں کے سربراہان کو کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر سکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ بھی دی۔

اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت کے ساتھ متعدد معاملات پر اختلافات کے باوجود وہ مسئلہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کے معاملے میں وزیراعظم کے ساتھ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ایک متحد پاکستان ہی بھارتی جارحیت کا مقابلہ کر سکتا ہے۔' ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'کشمیر کے تنازعے کا کوئی عسکری حل نہیں ہے۔‘

پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 'ہم دکھانا چاہتے ہیں کہ پاکستانی قوم مسئلہ کشمیر پر یکجان ہے۔'

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے کہا کہ 'اقوام متحدہ میں وزیراعظم کا خطاب پاکستانی قوم کے جذبات نمائندگی کرتا ہے۔'

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو سفارتی محاذ پر نئی زندگی ملی ہے۔'

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس بلا کر بروقت فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے سیاسی اور سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے کے بعد سے دونوں ممالک کے پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید تلخ ہو گئے ہیں

خیال رہے کہ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں بلایا گیا ہے جب لائن آف کنٹرول پر پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے میں انڈیا کی جانب سے 'سرجیکل سٹرائیکس' کا دعویٰ کیا گیا ہے جسے پاکستان نے مسترد کیا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ سرحد پار فائرنگ کا ایک واقعہ تھا جس میں اس کے دو فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے کے بعد سے دونوں ممالک کے پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید تلخ ہو گئے ہیں۔

ادھر پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کا تازہ ترین واقعہ پیر کی صبح ضلع حویلی کے نیزہ پیر سیکٹر میں پیش آیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق مقامی وقت کے مطابق ساڑھے گیارہ بجے انڈیا کی جانب سے ایک بار پھر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور آخری اطلاعات آنے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔

اس سے قبل پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے لائن آف کنٹرول پر انڈیا کی جانب سے اتوار اور پیر کی درمیانی شب بھی بلااشتعال فائرنگ کیے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے افتخار آباد سیکٹر میں فائرنگ کا سلسلہ اتوار کی شب رات 12 بجے سے پیر کی صبح چار بجے تک جاری رہا۔

ترجمان کے مطابق یہ گذشتہ تین دنوں میں انڈیا کی جانب سے فائربندی کے معاہدے کی تیسری خلاف ورزی ہے۔

انڈیا کی جانب سے اس بارے میں تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

کشیدہ حالات کی وجہ سے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب سرحد کے قریب واقع آبادیوں سے لوگوں کے انخلا کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں