نواز شریف: پاناما لیکس پر ہائی کورٹ کے فل بینچ کی سفارش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے پاناما لیکس کے انکشافات پر وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف کارروائی کےلیے فل بنچ تشکیل دینے کی سفارش کی ہے۔

ہائیکورٹ کے بنچ نے درخواست چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دی اور سفارش کی اس کی سماعت کے فل بنچ تشکیل دیا جائے۔

یہ درخواست تحریک انصاف کے مقامی رہنما گوہر نواز سندھو نے دائر کی تھی جس میں وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پاناما لیکس کے انکشافات پر تحقیقات کی استدعا کی گئی تھی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس وقاص رؤف مرزا اور جسٹس سرفراز ڈوگر پر مشتمل بنچ نے کہا کہ درخواست میں اہم نکات اٹھائے گئے ہیں اس لیے اس درخواست کےلیے فل بنچ تشکیل دیا جائے۔

بدھ کے روز کارروائی کے دوران درخواست گزار وکیل نے یہ موقف اختیار کیا کہ وزیر اعظم نواز شریف کے خاندان کے ارکان کے نام پاناما لیکس میں شامل ہیں۔ وکیل نے الزام لگایا کہ نواز شریف کے خلاف بیرون ملک اثاثے بنانے کے معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئے۔

وکیل کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے بیرون ملک اثاثوں کو خیفہ رکھا ہے اور ان اثاثوں کو اپنے انتخابی گوشواروں کو ظاہر نہیں کیا لیکن اب پاناما لیکس کے انکشاف سے وزیر اعظم کے اثاثوں کے ثبوت سامنے آگئے ہیں۔

درخواست گزار وکیل نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاناما لیکس کے انکشافات کے بعد نیب سمیت ملک دیگر ملکی ادارے وزیر اعظم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہے۔ وکیل نے استدعا کی کہ نیب کو پاناما لیکس کے انکشافات پر وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں