’مسئلہ کشمیر اور جی جی بریگیڈ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ اعتزاز ہی تھے جنہوں نے اپنی تقریر میں پاکستان مسلم لیگ کے ’جی جی برگیڈ‘ (گالم گلوچ بریگیڈ) کا بھی ذکر کیا۔

کشمیر ایک ایسا معاملہ ہے جس پر پوری پاکستانی قوم نہ صرف بڑی جذباتی ہے بلکہ وہ یہ بھی چاہتی ہے کہ اُن کے نمائندے جب بھی اس معاملے پر بات کریں تو دنیا بھر میں ایسا تاثر جائے کہ جیسے مسئلہ کمشیر پر پورا پاکستان متحد ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی سے متعلق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دو روز تک جاری رہا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چونکہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس مسئلہ کشمیر اور دونوں ملکوں کے درمیان موجود جنگی ماحول کے معاملے پر بلایا گیا ہے اس لیے جو بھی رکن پارلیمان تقریر کرے تو انہی موضوعات کو فوکس کرے۔

اس دو روزہ اجلاس میں جس بھی رکن پارلیمان نے تقریر کی اس کی تقریر کا ’انٹرو‘ یا ابتدائیہ مسئلہ کشمیر ہی تھا لیکن اس کے بعد حزب اقتدار اور حزب مخالف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ ایک دوسرے سے سیاسی حساب برابر کرتے رہے۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے جہاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر اُجاگر کرنے پر وزیر اعظم میاں نواز شریف کی تعریف کی وہیں اسی تقریر میں بھارتی جاسوس کلبھوش یادیو کا ذکر نہ کرکے بھارتی وزیر اعظم کو شرمندگی سے بچالیا۔

اُنھوں نے اس سال نومبر میں پاکستان میں ہونے والی سارک کانفرنس کے ملتوی ہونے کا ذمہ دار نواز شریف کو قرار دیا کیونکہ وزیر خارجہ کا عہدہ بھی وزیر اعظم کے پاس ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال سے متعلق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دو روز تک جاری رہا۔

چوہدری اعتزاز احسن اپنی تقریر میں پاکستان مسلم لیگ نون کے میڈیا سیل کے ’جی جی برگیڈ‘ (گالم گلوچ برگیڈ) کا بھی ذکر کیا جس کے ارکان چند روز قبل وزیر اعظم ہاوس میں مسئلہ کمشیر پر کل جماعتی ’ان کیمرہ‘ اجلاس میں ہونے والی گفتگو میڈیا کو دیتے رہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس بریگیڈ کا یہ اقدام انتہائی غیر مناسب تھا۔ چوہدری اعتزاز احسن نے اپنی تقریر میں پانامالیکس کا بھی ذکر کردیا جس پر قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے اُنھیں کہا کہ وہ تقریر کا فوکس اسی نقطے پر رکھیں جس پر یہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اس پر سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ وہ پانامالیکس کا ذکر اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ مسئلہ کشمیر پر پاکستانی وزیر اعظم جب اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات کریں تو کہیں اُن پر یہ بوجھ نہ ہو کہ اُن پر بدعنوانی کا الزام ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’جی جی بریگیڈ‘ کے کچھ ارکان روزانہ ٹی وی پر بیٹھ کر وزیر اعظم کے گن گانے کے ساتھ حزب مخالف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

چوہدری اعتزاز احسن جب اپنی تقریر کرر ہے تھے تو اسی دوران وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے اپنی جماعت کے سینیٹر مشاہد اللہ خان کو اپنے قریب بلایا اور اُنھیں کچھ نکات بتائے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ دونوں وفاقی وزرا مشاہد اللہ خان کو اعتزاز احسن کی تقریر کا جواب دینے کے لیے نکات لکھوانے کے بعد ایوان سے اُٹھ کر چلے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس دو روزہ اجلاس میں جس بھی رکن پارلیمان نے تقریر کی اس کی تقریر کا ابتدائیہ مسئلہ کشمیر ہی تھا۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کی تقریر ختم ہوتے ہی سپیکر نے مائیک مشاہد اللہ خان کو دیا جنہوں نے آغاز تو مسئلہ کشمیر سے کیا لیکن اس کے بعد وہ اعتزاز احسن کی طرف سے وزیر اعظم پر کیے گئے حملوں کا جواب دینے میں لگ گئے۔

اُنھوں نے اعتزاز احسن کا نام لیے بغیر کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا وزیر داخلہ بھی گزرا ہے جس نے اس وقت کی بھارتی حکومت کو علحیدگی پسند سکھوں کی فہرستیں فراہم کی تھیں۔

مشاہد اللہ خان نے کہا کہ پاناما لیکس میں میاں نواز شریف کا نہیں بلکہ بےنظیر بھٹو کا نام ہے جس پر ایوان میں دونوں جانب سے شور مچ گیا اور غیر پارلیمانی زبان بھی استعمال کی گئی۔

پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے جا رہی تھی کہ اس دوران حزب مخالف کی دیگر جماعتوں جن میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ اور محمود خان اچکزئی سامنے آگئے اور پیپلز پارٹی کے اراکین کو اجلاس کا بائیکاٹ کرنے سے روکا۔

ان سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسا ہونے کی صورت میں دنیا میں کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی طرف سے پیغام ٹھیک نہیں جائے گا۔

حزب مِخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے پہلے ہی اس اجلاس میں شرکت نہیں کی اور اس جماعت کی قیادت دوبڑی جماعتوں میں ہونے والی جھڑپ سے خوش دکھائی دیتی تھی۔

اسی بارے میں