سپریم کورٹ میں آسیہ بی بی کی اپیل پر اگلے ہفتے سماعت کا آغاز ہو گا

آسیہ بی بی

توہین مذہب کے الزام میں سزا پانے والی غیر مسلم خاتون آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ آئندہ ہفتے سے دوبارہ سماعت کا آغاز کر رہی ہے۔

آسیہ بی بی کے وکیل کے مطابق سزائے موت کے خلاف اپیل پر 13 اکتوبر کو اسلام آباد میں سماعت ہو گی۔ آسیہ بی بی پاکستان میں یہ سزا پانے والی پہلی غیر مسلم خاتون ہیں۔

سیف الملوک ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ آسیہ بی بی کی اپیل پر سپریم کورٹ کا تین رکنی فل بنچ کارروائی کرے گا۔ وکیل کے مطابق سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس میاں ثاقب ثنار کی سربراہی میں بنچ قائم کیا گیا ہے اور اس کے دیگر ارکان میں جسٹس اقبال حمید الرحمان اور جسٹس منظور اے ملک شامل ہیں۔

آسیہ بی بی نے گذشتہ برس جنوری میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس میں موت کی سزا کو چیلنج کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف درخواست پر ابتدائی سماعت گذشتہ برس جولائی میں کی اور ان کی اپیل کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اپیل پر حتمی فیصلہ تک سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آسیہ بی بی کی رہائی کے لیے پاکستان اور بیرونِ ملک مظاہرے کیے گئے ہیں

سیف الملوک ایڈووکیٹ کے بقول آسیہ بی بی کے خلاف توہین مذہب کا فیصلہ سناتے ہوئے حقائق کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔

پانچ بچوں کی ماں آسیہ بی بی نے ہائی کورٹ میں اپنی اپیل میں موقف اختیار کیا تھا کہ مقامی عدالت نے توہین رسالت کے جرم میں سزا سناتے وقت حقائق کو نظر انداز کیا اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے انھیں سزا سنا دی تھی جو قانون کی نظر میں قابل پذیرائی نہیں ہے۔

2014 میں لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کر دی تھی اور ماتحت عدالت کی جانب سے انھیں دینے جانے والی سزا کو برقرار رکھا۔

آسیہ بی بی کو 2010 میں صوبہ پنجاب کے ضلع ننکانہ کی عدالت نے توہین مذہب کے الزام میں موت کی سزا سنائی تھی۔

آسیہ کے خلاف جون 2009 میں توہین رسالت کے الزام میں درج مقدمے میں الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے اپنے ہمراہ کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ بحث کے دوران پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز کلمات کہے تھے۔

ملزمہ نے اپنے خلاف مقدمہ کی سماعت کے دوران یہ بیان دیا تھا کہ ان پر اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور انکار کرنے پر یہ مقدمہ درج کروا دیا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں