انڈیا پاکستان: ’ ہم طلاق یافتہ جوڑے کی طرح ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ ALIZAY JAFFER/ FACEBOOK
Image caption علیزہ جعفر 29 سال کی ہیں اور وہ ڈیولپمنٹ کے شعبے سے منسلک ہیں

'دنیا کے لیے ہم عام طور پر بھائی بھائی ہیں، مستقل لڑتے ہیں، والد کو خوش کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں تاکہ وہ ہمیں کوئی کھلونا لے دیں یا پھر ہمیں کہیں سیر و تفریح کے لیے لے جائیں یا اس سے بڑھ کر ہمارے جیب خرچ کو بڑھا دیں۔ لیکن بعض اوقات ہم مطلقہ جوڑے کی طرح ہیں، ایک ہی جگہ پر رہنے والے جوڑے کی طرح، ہمیشہ اس پر بحث و تکرار کرتے رہتے ہیں کہ قضیے میں کس کی شکست ہوئی اور یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں کہ ہم علیحدہ ہو چکے ہیں۔'

ایک طویل فیس بک پوسٹ میں علیزہ جعفر نے اپنے وطن پاکستان اور انڈیا کے پیچیدہ رشتے کے بارے میں اپنے خیالات کو یکجا کیا ہے جسے 4000 سے زیادہ بار شیئر کیا جا چکا ہے۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ رشتوں کی طویل تاریخ موجود ہے اور حالیہ مہینوں کے دوران اس میں مزید کشیدگی آئی ہے۔

'جب میں اپنے گذشتہ دس برسوں کے بہترین شب و روز کو یاد کرتی ہوں تو نصف سے زیادہ سرحد پار کے بھائی بہنوں کے ساتھ گزارے ہوئے ایام ہیں۔' یہ بات جعفر نے اسی روز پوسٹ کی جس دن انڈیا نے کہا کہ اس نے پاکستان پر 'سرجیکل سٹرائیکس' کی بات کہی۔

پاکستانی فوج نے اس دعوی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ 'وہم' ہے اور یہ کہ انڈیا اپنے میڈیا کے لیے خوراک فراہم کر رہا ہے۔

یہ 'سرجیکل سٹرائیکس' انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں فوجی کیمپ پر ہونے والے شدت پسند حملے کے جواب میں کیے گئے ہیں۔

جعفر نے لکھا کہ 18 ستمبر کو ہونے والے حملے کو انڈین وزیر اعظم مودی نے 'قابل نفرت' اور 'بزدلانہ' قرار دیا لیکن اسے ایک عرصے بعد معمولی واقعے سے تعبیر کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption سماجی رابطوں کی ویب سایٹ فیس بک پر علیزہ جعفر کی پوسٹ

وہ لکھتی ہیں کہ '20 سال کے عرصے میں اوڑی حملہ بس ایک کتابی واقعہ رہ جائے گا اور یہ ہماری سرد جنگ کی مشترکہ تاریخ میں ایک وقفہ کہا جائے گا جو کہ گرماتے گرماتے رہ گيا۔'

اس پوسٹ پر تقریبا دس ہزار رد عمل ظاہر کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر مثبت ہیں اور بعض میں اسے تحریک فراہم کرنے والا کہا گيا ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ 'یہ آج تک کا بہترین فیس بک پوسٹ ہے'۔ ایک دوسرے نے کہا کہ 'جعفر تم نے دلوں کو فتح کر لیا ہے۔'

29 سالہ علیزہ جعفر نے بی بی سی ٹرینڈنگ کو ای میل کے ذریعے بتایا کہ کہ ان کے لیے یہ باعث حیرت ہے کہ وہ سرحد پار لوگوں کے خیالات میں تبدیلی لانے کا باعث بنی ہیں۔ 'کچھ لوگوں نے لکھا کہ میری پوسٹ پڑھ کر انھیں یہ لگا کہ ابھی سب کچھ نہیں کھویا ہے ابھی بھی امن ممکن ہے۔'

بہر حال انیرودھ کنداری نامی ایک صارف نے لکھا کہ جعفر کے دلائل کی بہت سی جہتیں ہیں اور ان کی پوسٹ بہت اچھا ہے لیکن 'ہم آخر کس طرح دوست بن سکتے ہیں جبکہ ہمارے وجود کی بنیاد نفرت پر ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption ہیومنز آف پاکستان فیس بک کی پوسٹ

ایک صارف نے لکھا کہ 'جب کوئی دہشت گرد آپ کے عزیز کو مار دے تو آپ کیا کریں گی؟'

ہرچند کے سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تاہم سرحد پار سے ہم آہنگی کے مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

'ہیومنز آف پاکستان' نامی فیس بک صفحے پر دو پاکستانی بچوں کی تصویر ڈالی گئی ہے جو دریا پار اپنے ہندوستانی دوست کی بات کرتے ہیں۔ وہ اس کا نام بھی نہیں جانتے کیونکہ دریا کے شور میں آر پار کی باتیں سنائی نہیں دیتیں۔

اسی بارے میں