کشمیر کے مسئلے کے حل تک صبر کر لیجیے!

مظاہرے تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشمیریوں کے حق میں کراچی میں جلوس نکالے گئے

جن لوگوں کا تعلق دیہات سے ہے، وہ ایک بات بخوبی جانتے ہیں کہ ابا جی کے انتقال کے بعد بڑا بھائی جائیداد کیسے تقسیم کرتا ہے

سب سے پہلے تو روتا ہے کہ بٹوارا نہ کرو۔ چھوٹے بھائیوں کو ادھر ادھر لگانے کی کو شش کرتا ہے لیکن جب وہ بے چارے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اڑ جاتے ہیں تو دو تکنیکیں استعمال کی جاتی ہیں۔ پہلی تو لیت و لعل، دوسری 'ابا جی کے صحن کو کس دل سے تقسیم کر دوں؟'

٭ نیلم کا پانی بھی چناب کی طرح خون رنگ

٭ پسِ پردۂ سیمیں!

بہت سا وقت گزر جاتا ہے، چھوٹے بھائی تنگ آ کے کہتے ہیں، ’تو ابا جی کے صحن کو لے کر چاٹ، ہمیں جائیداد دے دے بھائی۔‘ اب بڑے بھیا نہایت عرق ریزی اور علاقے کے جملہ بگلا بھگتوں کے ساتھ مل کر حصے بناتے ہیں، جن میں پانی کے موگھے، ٹیوب ویل، ٹریکٹر، مال مو یشی، بندوقیں، منجھے پیڑھے وغیرہ شامل ہوتے ہیں، کسی طرح بڑے بھیا کے حصے میں آ جاتے ہیں۔

چھوٹے بھائیوں کو ناقص زمین، جسے نہ کہیں سے راستہ لگتا ہے نہ پانی، یہ کہہ کر دینے کی کو شش کی جاتی ہے کہ 'محنت سے سب بن جاتا ہے تم بھی بنا لینا۔ دیکھو ابا جی نے بھی تو بنایا تھا۔‘

چھوٹے چلاتے ہیں، کہ ’جو انھوں نے بنایا تھا اس پہ ہمارا بھی تو حق تھا۔‘ اس پہ ایک لمبی خاموشی اور حقے کی غیر مختتم گڑ گڑ۔ زیادہ بولنے پر انجائنا کا چھوٹا موٹا دورہ پڑ جاتا ہے جس پر ساراخاندان چھوٹوں کو لالچی اور بھائی کی جان کا دشمن مان لیتا ہے۔ معاملہ پھر کھٹائی میں پڑ جاتا ہے۔

آخر بے چارے اس لولے لنگڑے حصے پہ آمادہ ہو جا تے ہیں تو بھیا جی ایک بار پھر لانگڑ کس کے فردیں نکلوا تے ہیں ، پٹواریوں کو بلا کر نقشے بنواتے ہیں اور مزید کپڑا چھان کر کے سب اچھا اچھا بین لیتے ہیں۔

علاقے کے لوگوں کو دوبارہ بلا کر کہا جاتا ہے کہ 'باپ کے مرنے کے بعد میں نے انھیں اولاد سمجھا لیکن ان کا خون سفید ہو چکا ہے اور یہ دیکھو زمین الگ کر رہے ہیں۔' سب کی خاموش اور ملامتی نظروں میں جب کسی طرح یہ حصہ لے لیا جاتا ہے اور کاشت کرنے کی نوبت آتی ہے تو بھیا جی پانی بند کر لیتے ہیں۔

پانی کا تنازع حل ہوتا ہے تو اب راستہ بند کر لیا جاتا ہے۔ اس دوران اگر چھوٹے بھائی کی بیگم کاصبر جواب دے جائے اور وہ بھیا جی کے سمدھیانوں میں حد سے زیادہ دوستی بڑھا لیں اور ان کے روابط کے باعث بھیا جی کی بیٹیاں روز پٹا کریں تو وہ اس بات پر ایک اور واویلا مچا دیتے ہیں۔ جس میں اب چاچا جی پہ جان چھڑکنے والے بھتیجے بھتیجیاں بھی شامل ہوتے ہیں۔

انجامِ کار، بھیّا جی پر مقدمہ ہوتا ہے۔ اب دیوانی مقدمہ آپ جانیں، پیسہ، وقت اور ذہنی صحت سب کی بربادی۔ بیچ بیچ میں مار پیٹ، پانی توڑنا، راستے کے لیے لڑنا وغیرہ چلتا رہتا ہے۔ دل اور معدے کی بیماریاں گھر میں ڈیرے ڈالے رکھتی ہیں دونوں طرف لوگ آگ لگا کر ہاتھ سینکتے ہیں۔ بھائیوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر کے اپنا اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔

ہو تے ہوتے دونوں بھائی مر جاتے ہیں اور یہ دشمنیاں وراثت میں دے جاتے ہیں۔ نہ خود ترقی کرتے ہیں اور نہ اولاد کے لیے سکھ کی زندگی چھوڑ کر جاتے ہیں۔ ان کا ہر کام، ہر پالیسی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ہوتی ہے۔

اس طولانی تمہید سے آپ سمجھ تو گئے ہوں گے کہ میرا اشارہ کس طرف ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کے سیاست دان زیادہ تر دیہات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی سیاست پانی کے موگھے اور راستے کی سیاست ہوتی ہے۔ کوتاہ بین اور عاقبت نااندیش بزرگ کشمیر کو پانی کا موگھا سمجھ کر اس پر ایک ایسی دشمنی کی بنا رکھ گئے ہیں جسے ختم کرنے لیے دانش مندی اور دور اندیشی کی ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کشمیر میں ایک 13 سالج بچے کے جنازے کے وقت کا منظر

کشمیر پانی کا موگھا نہیں ہے، دو کروڑ کشمیر یوں کا وطن ہے۔ انھیں وہاں اپنی مرضی سے رہنے اور اپنے وسائل کو استعمال کرنے کا پو را حق حاصل ہے۔ کشمیر میں آگ لگی ہوئی ہے اور ہندوستانی صحافی اس آگ کو بجھانے اور اس مسئلے کے حل کے لیے اپنی حکومت پر زور ڈالنے کی بجا ئے گاؤں کے میراثی کی طرح بڑے چودھری صاحب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایک عجیب پاکھنڈ مچائے بیٹھے ہیں۔

جس طرح کشمیر پانی کا مو گھا نہیں، اسی طرح صحافی بھی گاؤں کے چودھری کا خبری نہیں۔ کام دونوں کا ایک ہی ہوتا ہے۔

صحافت بہت مقدس پیشہ ہے اور قلم کار پر ان لوگوں کا بہت حق ہوتا ہے جو اپنے لیے نہیں بول سکتے۔ صحافی بنیے، سچ بولیے، سچ لکھیے، سیاست دانوں کو سیاست کرنے دیجیے، فوجیوں کو جنگ کرنے دیجیے، اداکاروں کو ادا کاری کرنے دیجیے، آپ کا کام خبر دینا اور تجزیہ کرنا ہے۔

فوجیوں کو سیا ست، اداکاروں کو جنگ اور سیاست دانوں کو اداکاری پر مجبور مت کیجیے۔ جس کا کام اسی کو سانجھے، اداکاروں سے قومی سلامتی پہ مشاورت کریں گے توجواب وہی ہو گا جو اوم پو ری نے دیا، 'آپ بھی 20 خود کش بنا لیجیے۔'

کشمیر پر بات کریں، جنگ بھی کر لیں گے، لیکن پہلے کشمیر کا مسئلہ حل کر لیجیے۔ اپنے قلم کی طاقت سے کشمیریوں کو ان کا حق دلا دیجیے، پھر جی بھر کے لڑیں گے، رہتی دنیا لڑیں گے، ایٹم بم چلائیں گے، اگلی نسلوں کو معذور بنائیں گے، کھیتوں میں بھوک اگائیں گے اور سینہ ٹھونک ٹھونک کر کہیں گے یہ جنگ ہم نے شروع کرائی تھی۔

ہم صحافی ہیں! ہمارے قلم کی طاقت سے جغرافیہ بدل جاتا ہے، قوموں کی تقدیریں بدل جاتی ہیں، دیکھیے ہم نے دنیا کے زرخیز ترین خطے کو اجاڑ میں بدل دیا اور دو قوموں کو بھو کے ننگے، جنگ کے مارے افراد میں تبدیل کر دیا۔ یقین جانیے تاریخ آپ کو بہت اچھے الفاظ میں یاد کرے گی۔ مگر صرف کشمیر کے مسئلے کے حل تک صبر کر لیجیے!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں