سری نگر یونیورسٹی کے بدتمیز بچے

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مئی 2009 کی ایک سہ پہر سری نگر یونیورسٹی کے گلاب زار پر ایک دائرے میں بیٹھے سوشیالوجی ڈپارٹمنٹ کے سرخ و سفید لڑکے لڑکیاں کشمیر کے حالات پر گفتگو سے زیادہ یہ بات جاننے میں دلچسپی لے رہے تھے کہ کیا طالبان کے خلاف سوات آپریشن کامیاب ہو جائے گا۔ کیا پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہوجائے گا؟

ایک لڑکے نے کہا آپ ہماری فکر چھوڑیے۔ اپنی فکر کیجیے۔ آپ کی طاقت شاید ہماری اتنی مدد نہ کر سکے مگر آپ کی کمزوری ہمارے لیے زیادہ نقصان دہ ہے۔

میں نے پوچھا نوے کی دہائی میں کشمیر میں اتنی بڑی شورش کے باوجود بھی مسئلہ جوں کا توں کیوں ہے؟ اتنی ہلاکتوں کے باوجود جدوجہد کیوں ٹھنڈی ہوگئی؟ ایک بچی نے کہا اگر آپ ہماری لڑائی کو ہائی جیک نہ کرتے تو دنیا بھارت کو مجبور کر دیتی کہ اس مسئلے کا کوئی حل نکالو۔ مگر آپ نے سرحد پار سے جو جہادی بھیجے ان سے سب سے زیادہ نقصان ہمارے کاز کو اور سب سے زیادہ فائدہ بھارتی پروپیگنڈے کو پہنچا اور ہماری جدوجہد سرحد پار مداخلت سے نتھی ہو گئی۔ ہم آزادی چاہتے ہیں۔ آزادی کا مطلب ہے آزادی۔ بھارت اور پاکستان سے الگ ایسا کشمیر جس میں ہم اپنے فیصلے خود کر سکیں۔ کیا آپ کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی؟

اس لڑکی نے یہ مثال بھی دی کہ فرانس الجزائر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا تھا، ایتھوپیا اریٹیریا کو اور انڈونیشیا مشرقی تیمور کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا تھا۔ مگر الجزائریوں، اریٹیرینز اور مشرقی تیموریوں نے اپنی جنگ خود لڑی۔ ہزاروں لوگ مرے پر آزادی مل گئی۔ کیوں مل گئی؟ کیونکہ سب دنیا نے ان کی اخلاقی و سیاسی حمایت کی۔ اپنے مسلح جتھے نہیں بھیجے۔ لہٰذا قابض طاقت کو یہ کہنے کا موقع نہیں مل سکا کہ دیکھو دیکھو الجزائری تو ہمارے ساتھ بہت خوش ہیں۔ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ چند غیر ملکی دہشت گرد کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ایک لڑکے نے اپنی ساتھی کی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ریاست جتنی بھی لولی لنگڑی سہی مگر یہ ریاست اس لیے بن سکی کیونکہ اردن کے شاہ حسین نے مرنے سے پہلے اعلان کیا کہ اردن اسرائیل کے زیرِ قبضہ یروشلم اور غربِ اردن کی ملکیت سے فلسطینیوں کے حق میں دستبردار ہوتا ہے۔ یہ تاریخی اعلان کر کے شاہ حسین نے اسرائیل اور اردن کے درمیان جغرافیائی قبضے کے جھگڑے کو فلسطینی حقوق اور اسرائیلی قبضے کے جھگڑے میں بدل کر فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کردی۔

اس لڑکے نے پوچھا کیا پاکستان یہ اعلان کر سکتا ہے کہ لداخ سے لے کر گلگت تک پوری ریاست کشمیر ہے اور ہم اس کشمیر میں آزادی کی رائے شماری کے لیے اقوامِ متحدہ سمیت دنیا بھر میں وکالت کریں گے۔ ویسے بھی اقوامِ متحدہ کی قرار داد یہی تھی کہ کشمیر سے دونوں ملک فوجیں ہٹائیں تاکہ کشمیریوں کو ایک کھلے ماحول میں آزادی کا فیصلہ آزادی سے کرنے کا موقع ملے۔ اگر پاکستان ایسا کر لے تو بھارت کے طوطے اڑ جائیں گے اور پھر دنیا یہ بات بھی سمجھ لے گی کہ اصل نوآبادیاتی طاقت کون ہے۔

ایک اور لڑکے نے بیچ سے بات اچکتے ہوئے کہا سنیے اگلے راؤنڈ میں ہمیں آپ کے جہادی نہیں بلکہ صرف اخلاقی مدد چاہیے۔ گولیوں کا سامنا ہم پہلے بھی کرتے آئے ہیں اب بھی کرلیں گے۔ آپ کی بھیجی ہوئی افرادی قوت نہ پہلے ہمارے کام آئی نہ آئندہ آئے گی۔ بس اتنا کرلیں کہ ہمیں دو ملکوں کی شطرنج کا مہرہ سمجھنے کے بجائے انسان سمجھیں۔ بساط ہم خود الٹ دیں گے۔

سری نگر یونیورسٹی کے ان بچوں سے گفتگو کے دوران مجھے ہندوستان کے عوام پرست شاعر اسرار الحق مجاز یاد آتے رہے۔ کسی نے مجاز سے پوچھا ملک میں اس قدر طبقاتی فرق اور غربت و پسماندگی کے باوجود انقلاب کے لیے فضا کیوں نہیں بن پا رہی؟ مجاز نے کہا کہ میاں انقلاب تو کب کا آ جاتا مگر کیمونسٹ پارٹی سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں