کوئٹہ میں بلوچ قوم پرست رہنما کی ’گرفتاری‘ کے خلاف مظاہرہ

Image caption مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ شبیر بلوچ سمیت دیگر تمام بلوچوں کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں قوم پرست طلبا تنظیم کالعدم بی ایس او آزاد کے زیر اہتمام تنظیم کے مرکزی سیکریٹری انفارمیشن شبیر عرف لکھمیر بلوچ کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے۔

اتوار کو کوئٹہ پریس کلب کے باہر ہونے والے اس احتجاجی مظاہرے میں تنظیم سے تعلق رکھنے والی طالبات نے بھی شرکت کی ۔

مظاہرے کے شرکا کے ہاتھوں میں کتبے اور بینرز تھے جن پر تنظیم کے رہنما کی فوری رہائی کے علاوہ لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچستان میں مبینہ فوجی آپریشن کے خاتمے سے متعلق دیگر مطالبات درج تھے ۔

اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے تنظیم کی رہنما مہروش بلوچ نے الزام عائد کیا کہ شبیر بلوچ کو چار اکتوبر کو حراست میں لیا گیا۔

بی ایس او کی رہنما نے کہا کہ بی ایس او طالبعلموں کی ایک تنظیم ہے اور یہ پر امن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے لیکن ریاستی ادارے اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کو ہر وقت ٹارگٹ کررہے ہیں۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ شبیر بلوچ سمیت دیگر تمام بلوچوں کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے ۔

بی ایس او آزاد کی طرح دیگر قوم پرست جماعتیں بلوچستان میں سیکورٹی فورسز پر لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے اور مبینہ آپریشن کا الزام عائد کرتے رہے ہیں لیکن سرکاری حکام ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں