کراچی میں راحیل شریف کی حمایت میں ایک بار پھر بینرز لگ گئے

بس پاکستان
Image caption میاں کامران نے کہا کہ فی الوقت یہ بینرز صرف کراچی ہی میں آویزاں کیے گئے ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک بار پھر ’موو آن پارٹی‘ کی جانب سے پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل کی حمایت میں شہر کی مصروف شاہراہوں پر بینرز آویزاں کیے گئے ہیں۔

ان بینرز پر ’اور کچھ نہیں۔۔۔ بس پاکستان‘ لکھا ہوا ہے۔

بینرز پر پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی تصویر کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر ہلاک ہونے والے دو فوجیوں کی تصاویر کے ساتھ مووآن پارٹی کے سربراہ محمد کامران کی بھی تصویر ہے۔

مووآن پارٹی کے چیئرمین محم کامران نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد پاکستان کی فوج سے اظہار یکجہتی ہے اور اس کے علاوہ ہمارا کوئی اور سیاسی مقصد نہیں ہے سوائے اس کے کہ اگر بھارت کی جانب سے کوئی جارحیت ہوتی ہے تو پوری پاکستانی قوم پاکستان کی فوج ساتھ ہے۔

میاں کامران نے کہا کہ فی الوقت یہ بینرز صرف کراچی ہی میں آویزاں کیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مووآن پارٹی کی جانب سے اس سے پہلے بھی جنرل راحیل شریف کی حمایت میں بینرز لگائے گئے تھے

انھوں نے مزید بتایا کہ جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہیے اور یہ جرم نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بھی پاکستانی کی سالمیت کے لیے لڑے گا وہ اس کے بھی بینرز لگائیں گے۔

یاد رہے کہ مووآن پارٹی کی جانب سے اس سے پہلے بھی جنرل راحیل شریف کی حمایت میں بینرز لگائے گئے تھے جن پر ’جانے کی باتیں جانے دو، اب آجاؤ‘ جیسے نعرے درج تھے۔ اس وقت ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے اس کے سربراہ محمد کامران کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس وقت وہ ضمانت پر ہیں۔

محمد کامران نے بتایا کہ ان کی جماعت الیکشن کمیشن میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہے جبکہ اسی نام سے ان کی ایک این جو او بھی رجسٹرڈ ہے اور وہ پنجاب اور سندھ کے کچھ اضلاع میں تعلیم اور صحت کے لیے کام کرتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں