پاکستان میں یومِ عاشور کے ماتمی جلوسوں کا پرامن اختتام

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption تعزایہ نکالنے کی روایت دوسرے مسالک میں بھی ہے

پاکستان میں واقع کربلا کی یاد میں یوم عاشور پر نکالے جانے والے جلوس سکیورٹی کے لیے خصوصی انتظامات میں بدھ کو ملک کے تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہو گئے ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق راولپنڈی میں سکیورٹی کے لیے دس ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے اور پولیس کے ان اہلکاروں کو جلوس کے راستوں پر تعینات کرنے کے علاوہ ان راستوں میں واقع عمارتوں کی چھتوں پر بھی تعینات کیا گیا تھا۔

راولپنڈی شہر میں کرنل مقوبل حسین کی امام بارگاہ سے برآمد ہونے والا مرکزی جلوس اپنے روایتی راستے سے ہوتا ہوا امام بارگاہ قدیم میں پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوا۔

سکیورٹی کے سخت انتظامات کے علاوہ یوم عاشور پر فوج کو بھی چوکس رکھا گیا ۔ راولپنڈی، پنجاب کے اُن تین شہروں میں سے ایک ہے جسے چند سال قبل فرقہ وارانہ فسادات کے بعد سے حساس ترین قرار دیا گیا تھا۔

دو سال قبل ماتمی جلوس پر قریبی مدرسے سے مبینہ طور پر ہتک آمیز نعرے لگانے پر ہنگامہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں آٹھ سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے اور مظاہرین نے متعدد دکانوں کو نذر آتش کردیا تھا اور تاحال یہ مقدمہ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔

Image caption کوئٹہ میں نکالنے جانے والے جلوس کا ایک منظر

راولپنڈی پنجاب کے ان نو شہروں میں شامل ہے جہاں پر جزوی طور پر موبائیل اور انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھیں۔ دیگر شہروں میں لاہور، جھنگ، فیصل آباد، سرگودھا، گوجرانوالہ اور جہلم بھی شامل ہیں۔

راولپنڈی کی تحصیل ٹیکسلا میں بھی محرم الحرام کے جلوسوں میں فول پروف سیکورٹی دینے کے علاوہ موبائل سروس بھی بند کردی گئی ہے۔

لاہور میں عزاداری کا مرکزی جلوس روایتی طور پر نثار حویلی سے نکالا گیا اور کربلا گامے شاہ میں اختتام پذیر ہوا۔

کراچی میں مرکزی ماتمی جلوس نشتر پارک سے نکلا جو ایم اے جناح روڈ اور ملحقہ علاقوں کے روایتی راستے سے گزرنے کے بعد شام کو کھارا در میں امام بارگاہ حسینیہ ایرانیہ پر اختتام پذیر ہوا۔

بلوچستان سے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی یوم عاشور کا جلوس سخت سیکورٹی میں نکالا گیا۔ اس جلوس کا آغاز عملدار روڈ سے ہوا ۔

Image caption شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمان یومِ عاشورہ کے موقع پر ماتم اور زنجیر زنی کرتے ہیں

سنہ 2004 میں کوئٹہ شہر میں دسویں محرم کے جلوس پر دو خود کش حملوں کے بعد سے اس جلوس کے راستے پر واقع دکانوں اور ہوٹلوں کو ایک روز قبل سیل کیا جاتا ہے اور گردونواح کے علاقوں کو بھی بند کیا جاتا ہے۔

یوم عاشورکے جلوس کی سیکورٹی کے لیے شہر میں 7000 سے زائد پولیس، ایف سی اور لیویز فورس کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

جلوس کی خفیہ کیمروں سے نگرانی کے علاوہ فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی۔

دوپہر کو شہر میں یوم عاشور کے سیکورٹی انتظامات کے تحت موبائل فون سروس کو بھی بند کیا گیا۔ شہر میں یکم محرم سے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔

صوبہ خیبرپختونخوا میں بھی سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے۔ پشاور میں مرکزی جلوس قصہ خوانی بازار سے شروع ہوا۔

ادھر شمالی علاقے گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں 300 سے زائد مقامات سے علم، تعزیے اور ذوالجناح کے جلوس نکالے گئے۔

مقامی صحافی موسیٰ چلونکھا سے کے مطابق بلتستان ڈویژن میں برآمد ہونے والے جلوس کی سیکورٹی کے لیے پولیس کے ایک ہزار سے زائد اہلکاروں کے ساتھ گلگت بلتستان سکاوٹس بھی تعینات کردیا گیا ہے۔