آرمی چیف نے سزائے موت پانے والے مزید 10 مجرمان کی سزاؤں کی توثیق کر دی ہے۔

پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے 10 شدت پسندوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی ہے۔ ان شدت پسندوں کو عام شہریوں، پولیو ورکرز، غیر سرکاری تنظیموں کے کارکنان، پولیس اور مسلح افواج کے اہلکاروں پر دہشتگرد حملے کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔

پاکستان کی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان مجرموں کو ملک بھر میں قائم کی جانے والی فوجی عدالتوں میں مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

ان مجرموں سے ہتھیار اور بارودی مواد برآمد کیا گیا تھا۔

محمد شاہد عمر ولد زمان خان

محمد شاہد عمر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سرکردہ رکن تھے۔ ان کو دو خواتین پولیو ٹیموں، 11 این جی او اور عام شہریوں کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر بھی حملوں میں ملوث تھا۔ انھوں نے میجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور ان کو سزائے موت دی گئی۔

حسین شاہ ولد فضل ہادی

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption کیپٹن وسیم

حسین شاہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سرکردہ رکن تھے۔ وہ مسلح افواج کے اہلکاروں میں ملوث تھے جن میں میجر مصطفیٰ اور کیپٹن وسیم کی ہلاکت اور دیگر اہلکاروں کے زخمی ہوئے۔ انھوں نے میجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور ان کو سزائے موت دی گئی۔

ظفر اقبال ولد محمد خان

ظفر اقبال کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سرکردہ رکن تھے۔ وہ مسلح افواج کے اہلکاروں میں ملوث تھے جن میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے صوبیدار اول خان، نائک عظمت اللہ ہلاک ہوئے اور اے ایس آئی چنار گل اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے سپاہی شفیق اور دیگر اہلکاروں کے زخمی ہوئے۔ انھوں نے مجیسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور ان کو سزائے موت دی گئی۔

انور زیب ولد توتکے

انور زیب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سرکردہ رکن تھے جو لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ خاقان افضل کے اغوا اور سب انسپیکٹر ریٹائرڈ عمر غنی کو قتل کرنے میں شامل تھا۔ انھوں نے میجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور ان کو سزائے موت دی گئی۔

عبید الرحمان ولد فضل ہادی

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption سب انسپیکٹر عمر غنی

عبید الرحمان کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سرکردہ رکن تھے جو عام شہریوں کے قتل میں ملوث تھے۔ انھوں نے مجیسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور ان کو سزائے موت دی گئی۔

شیر عالم ولد حنیف ارحمان

شیر عالم کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سرکردہ رکن تھے جو عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے قتل میں ملوث تھے۔ انھوں نے مجیسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور ان کو سزائے موت دی گئی۔

عطا اللہ ولد محمد سلطان، مشتاق خان ولد سعید گل اور اصغر خان ولد نادر خان

یہ تینوں مجرم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سرکردہ رکن تھے۔ یہ تینوں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں میں ملوث تھے جن کے نتیجے میں متعدد فوجی ہلاک ہوئے اور کیپٹن آصف زخمی ہوئے۔ انھوں نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور ان کو سزائے موت دی گئی۔

شمس القمر ولد شا گلبر

شمس کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سرکردہ رکن تھے۔ وہ قاونا نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں میں ملوث تھے جن میں پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ انھوں نے میجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور ان کو سزائے موت دی گئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں