'منطقی سوچ رکھنا دراصل سازش ہے'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سوشلستان اس ہفتے ان چند گنے چنے صحافیوں کو صحافت کے رموز و اسرار سمجھانے میں لگا رہا

سوشلستان اس ہفتے ان چند گنے چنے صحافیوں کو صحافت کے رموز و اسرار سمجھانے میں لگا رہا جو ہجوم سے الگ اس مقدس پیشے کی بچی کھچی ساکھ کی لاج رکھتے ہوئے کام کرتے ہیں۔ ٹرینڈنگ کے منہ زور گھوڑے کبھی کسی کاروباری شخصیت اور کبھی کسی اخبار کے پیچھے بگٹٹ دوڑتے رہے جیسے یہ سوشلستان نہیں کوئی جنگل ہو۔

صحافی خبر کا موضوع نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption سِرل المائڈہ کی ای سی ایل کے حوالے سے ٹویٹ

صحافی کا کام خبر دینا ہے مگر بعض خبریں ایسی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے خبر سے زیادہ صحافی موضوع بن جاتا ہے۔

یہی معاملہ سیرل المائڈہ کی خبر کے معاملے میں ہے جس پر تبصرے کرنے والوں میں سے اسی فیصد نے شاید خبر پڑھی بھی نہ ہو مگر وہ اس پر بھاری بھرکم اصطلاحات کا استعمال کر کے تبصرے کرنے پر مُصر ہیں۔

ظُلم تو یہ ہے جنہیں اس خبر پر شدید تحفظات ہیں انہیں سرل المائڈہ کا نام صحیح سے لکھنا تو کیا بولنا بھی نہیں آتا۔

اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ٹویٹ میں سوال کیا کہ 'کیا میں ایک بے وقوفانہ سوال کر سکتا ہوں؟ ہم نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ کیوں رکھی ہے؟ کس جمہوری ملک کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ جس کی چاہے نقل و حرکت محدود کر دے؟'

ایک ٹوئٹر صارف کا کہنا ہے کہ 'اگر حکومت اپنے لیکس کا خاتمہ چاہتی ہے تو اسے ای سی ایل کی نہیں ایک پلمبر سے رہنمائی کی ضرورت ہے جو اسے اس مسئلے کا ٹکسالی حل بتائے گا۔'

گذشتہ روز وزیرِ داخلہ نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ اس خبر سے ملک دشمن بیانیے کی تشہیر ہوئی ہے مگر کیا خبر سے ایسا ہوا؟

رضا رومی نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا 'پاکستان کا بیرونِ ملک تشخص اس وقت خراب نہیں ہوتا جب ایک صحافی یا اخبار کوئی خبر شائع کرتا ہے۔ تشخص تب تباہ ہوتا ہے جب آپ اخبارات یا صحافیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔'

اور ضرار کھوڑو نے لکھا 'اگر اس ساری مشق کا مقصد سِرل کی خبر کو تقویت نہ دینا تھا تو اس نے بالکل الٹ کام کیا ہے۔'

'سِرل پٹواری ہے'

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک ٹی چینل میں بات کرتے ہوئے کہا کہ 'جس صحافی نے یہ لکھا ہے وہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں ایک سیمینار ہو رہا تھا اُس نے اپنے آپ کو کہا کہ میں نون لیگ کا ہوں۔ اب جو اُس نے لکھا ہے آرٹیکل اس کے پیچھے یہ ہیں۔'

لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز کی الومنائی ایسوسی ایشن ایکشن کیمٹی نے اس الزام کے جواب میں اس مبینہ سیمینار (جو کہ ایک مباحثہ ہے نہ سیمینار) کی ویڈیو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی ہے۔

اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد کوئی بھی با آسانی اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ مباحثہ ایک فرضی بحث پر تھا جس میں مختلف لوگوں کو ایک خاص نکتۂ نظر کے دفاع کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

سِرل المائڈہ کے ذمے حکومت یا وزیراعظم کے دفاع کی ذمے داری تھی جس میں اُن کے شریک مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز اور وزیراعظم کے ترجمان مصدق ملک ہیں۔

مگر اس کو بنیاد بنا کر عمران خان جو ایک قومی سطح کے رہنما ہیں نے ایک صحافی کی سیاسی وابستگی اور اس سے بڑھ کر ایک متنازع خبر کے تانے بانے حکومت سے جوڑے۔

ندیم فاروق پراچہ نے اسی تانے بانے بننے کے عمل پر تبصرہ لکھا ’منطقی سوچ رکھنا دراصل سازش ہے‘۔

اس ہفتے کا تعارف

اس ہفتے ہم اپنی ایک دیرینہ قاری عینا سیدہ سے متعارف کروا رہے ہیں جو @A_ProudCivilian کے نام سے ٹویٹ کرتی ہیں۔ بی بی سی اردو کے فیس بُک پیج اور ٹوئٹر پر ان کے تبصرے اور ان کی ٹویٹس گذشتہ پانچ سال سے پڑھنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عینا نہ صرف ایک بہت بردبار اور ذہین لکھاری ہیں بلکہ ان کا علم اور تجربہ بھی وسیع ہے اور ہمیشہ دلیل اور ثبوت کے ساتھ بات کرتی ہیں۔ مشکل سے مشکل موضوعات پر 120 حروف میں بات کرنا اپنی ذات میں ایک مہارت ہے۔ ان کی رائے یا نظریات سے ہمارا متفق ہونا ضروری نہیں کیونکہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر ایسی خواتین کا شدید فقدان ہے جو اتنی نفرت اور ٹرولنگ کے باوجود ڈٹی رہتی ہیں۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شام کے شہر حلب کی اس بچی کی بچپن کی یادیں کیا ہوں گی؟
تصویر کے کاپی رائٹ Zipline
Image caption روانڈا میں ایک کمپنی نے ڈرون کے ذریعے ڈیلیوری سروس شروع کی ہے