اگر انڈیا مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدہ ہے تو پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے: نواز شریف

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نواز شریف کا کہنا تھا کہ انڈیا کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے تحت اپنے وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے

وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ اگر انڈیا کشمیر سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے تو پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

سنیچر کے روز وزیر اعظم نواز شریف نے یہ بات آذربائیجان کے دورے کے دوران صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کئی بار تصفیہ طلب مسائل پر بات چیت کی پیشکش کی، لیکن انڈیا نے کوئی جواب نہیں دیا۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر خطے میں کشیدگی کی بڑی وجہ ہے اور انڈیا کو اس کے حل کے لیے سنجیدہ ہونا چاہیے۔

نواز شریف نے کہا ہے کہ انڈیا کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے تحت اپنے وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے لیے پرعزم ہے کیونکہ وہ ایک پرامن ملک ہے۔

انھوں نے اُڑی حملے کے بعد انڈیا کے بے بنیاد الزامات کی مذمت کی اور کہا کہ حملے کے چھ گھنٹے بعد ہی انڈیا نے اس کا الزام پاکستان پر عائد کردیا تھا۔

Image caption خیال رہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں تین ماہ سے جاری تشدد کے نتیجے میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ امن کے لیے پاکستان کے عزم کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے اور انڈیا کے جارحانہ عزائم علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے کسی جارحیت یا لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی صورت میں پاکستان اپنے عوام اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہرممکن اقدامات کرے گا۔

خیال رہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں تین ماہ سے جاری تشدد کے نتیجے میں جہاں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں وہیں پاکستان اور انڈیا کے باہمی تعلقات بھی شدید کشیدہ ہو چکے ہیں۔

اس کشیدگی میں مزید اضافہ گذشتہ ماہ اوڑی کے علاقے میں انڈین فوج کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد ہوا ہے جس میں 18 انڈین فوجی مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں