الطاف حسین گاڑی سے نہ اترے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption الطاف حسین کی جماعت کئی دھڑوں میں بٹ چکی ہے

یہ سنہ 1987 میں جنوری کی کوئی رات تھی، جب میں اور پروفیسر جمال نقوی کے صاحبزادے عاصم جمال نارتھ ناظم آباد میں ایک سڑک کے کنارے کسی دیوار پر نعرے لکھ رہے تھے۔ اُن دنوں ہم ڈیموکریٹک سٹوڈنٹ فیڈریشن کے رکن تھے اور کراچی کی دیواروں پر 'تعلیم حق ہے نہ کہ رعایت' لکھتے پھرتے تھے۔

میں دیوار کے ایک کونے پر کھڑا لال رنگ سے کسی کی دیوار پر انقلاب برپا کر رہا تھا اور میرا دوست یہی کام سامنے کسی اور دیوار پر کر رہا تھا۔ اتنے میں موٹر سائیکل پر دو پولیس والے آ گئے اور انہوں نے ہمیں پکڑ لیا۔ مجھے یاد ہے اُس رات سردی بھی کافی تھی اور ہم سڑک پر کھڑے کانپتے ہوئے اُن پولیس والوں کی ڈانٹ اور دھمکیاں سن رہے تھے۔

اتنے میں دور سے ایک اور گاڑی آتی دکھائی دی تو پولیس والے نے اپنے ساتھی سے کہا کہ 'اوئے روک اِس کو۔' گاڑی کو روک لیا گیا۔ ہم نے دیکھا گاڑی میں مہاجر قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایم کیو ایم اُس وقت متحدہ نہیں مہاجر تھی۔

پولیس والے نے شیشے کو کھٹکھٹایا تو الطاف حسین نے شیشہ نیچے کر دیا۔ پولیس والے نے اُن سے ہاتھ ملایا اور بڑی عزت سے سلام کرتے ہوئے کہا کہ 'سر آپ لوگ جا سکتے ہیں'

اِس دوران اُس گاڑی میں سے ایم کیو ایم کی پوری قیادت اترتی دکھائی دی۔ امین الحق، سلیم شہزاد، طارق جاوید اور کئی دوسرے۔ لیکن الطاف حسین گاڑی میں ہی بیٹھے رہے اور انُہوں نے جاتے جاتے ہمیں دیکھا اور پولیس والوں سے کہا 'اِنہیں کیوں پکڑ رکھا ہے' پولیس والے نے کہا سر یہ لوگ دیواروں پر سیاسی نعرے لکھ رہے تھے۔ جس پر الطاف حسین بولے 'یہ اپنے ہی بچے ہیں انہیں جانے دو' اور ہماری جان چھوٹ گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption الطاف حسین کے خلاف پاکستان میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں

وقت گزرتا گیا ایم کیو ایم سندھ کے شہری علاقوں کی سب سے بڑی جماعت بن گئی، مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل ہوگئی۔ لیکن یہ جماعت ایک ہی شخصیت کے گرد گھومتی رہی۔

الطاف حسین کسی کو بھی ٹکٹ دے دیں وہی کامیاب۔ الطاف حسین کے ایک اشارے پر پارٹی کے قومی اور صوبائی اسبملیوں کے ارکان مستعفیٰ ہونے کے لیے بیتاب۔ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان تو شہر میں پولنگ سٹیشنز سنسان۔ ہڑتال کی اپیل تو بند ہر دکان۔

پارٹی میں اُن کے سامنے کسی کی شخصیت ابھرنے ہی نہیں دی گئی۔ 'ہم کو منزل نہیں رہنما چاہیے' کا نعرہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے تعلق کی بالکل صحیح نمائندگی کرتا ہے۔ جب تک الطاف حسین زندہ ہیں ایم کیو ایم کو اُن سے اور اُن کو ایم کیو ایم سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اِس جماعت کی نشو نما ہی اِسی انداز میں ہوئی ہے۔

الطاف حسین گذشتہ 25 برس سے پاکستان سے باہر ہیں اور پارٹی کی مقامی قیادت نے ہر اچھے برے وقت میں حالات کا مقابلہ کیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار، وسیم اختر، حیدر عباس رضوی، فیصل سبزواری، خواجہ اظہار الحسن، انیس قائم خانی وغیرہ ہی پارٹی کو کامیابی سے چلاتے رہے۔

مسائل اُس وقت شروع ہوئے جب الطاف حسین کی تقریریں ’ناقابلِ برداشت‘ ہوتی گئی نہ صرف اُن کے مخالفین کے لیے بلکہ خود اُن کے ساتھیوں کے لیے بھی۔ یہاں تک کے رہنماوں کی کارکنوں کے ذریعے پٹائی کے واقعات بھی سامنے آنے لگے۔

اگر ایم کیو ایم نائن زیرو سے پی آئی بی کالونی تک منتقل ہو گئی ہے تو اِس کی بڑی وجہ الطاف حسین کا غیر متوقع مزاج اور تقاریر ہیں۔ اگر یہ اسٹیبلشمنٹ کی سازش ہے بھی تو الطاف حسین نے اُس کا کام آسان کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نائن زیور پر کئی مرتبہ چھاپے بھی مار جا چکے ہیں

لیکن اِس سب کے باوجود آج جو لوگ ایم کیو ایم پاکستان یا پاک سرزمین پارٹی میں ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو کل تک الطاف حسین کی ناقابلِ دفاع تقاریر کا دفاع کیا کرتے تھے۔

اِن افراد کے پاس راستے کافی محدود ہیں۔ یا تو یہ گھوم پھر کر واپس وہیں آ جائیں اور ایک مرتبہ پھر ٹی وی کے ٹاک شوز میں الطاف حسین کی تقاریر کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ دوسری صورت میں اپنے سیاسی کیرئر میں پہلی مرتبہ اپنے بل بوتے پر انتخابات جیت کر دکھائیں۔

تقریباً تیس برس پہلے جس گاڑی میں میں نے الطاف حسین کو دیکھا تھا اُس سے باقی تمام رہنما اتر گئے تھے سوائے الطاف حسین کے۔