عمران خان کی 30 اکتوبر کے بجائے دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کی کال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تاریخ میں تبدیلی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کی وجہ سے کی گئی ہے: عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دارالحکومت اسلام آباد کو بند کرنے کی کال کی تاریخ تبدیل کر دی ہے۔

پیر کو اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اب 30 اکتوبر کی جگہ دو نومبر کو شہر میں دھرنا دیں گے۔

٭ عمران خان کا حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک کا اعلان

٭ 'پہلے اپنی صفائی دوں گا پھر وزیرِاعظم سے سوال کروں گا'

٭ عمران حان کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان

عمران خان نے دھرنے کے مقام اور وقت کا اعلان بھی کیا اور بتایا کہ دھرنا دن دو بجے فیض آباد اور زیرو پواننٹ کے درمیانی علاقے میں دیا جائے گا۔

تاریخ میں تبدیلی کی وجہ بتاتے ہوئے تحریکِ انصاف کے سربراہ نے کہا کہ تاریخ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کی وجہ سے تبدیل کی گئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما حامد خان کا گروپ 31 اکتوبر کو ہونے والے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں حصہ لے رہا ہے۔ یہ گروپ گذشتہ پانچ سال سے عاصمہ جہانگیر گروپ سے شکست کھاتا آیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اس عرصے کے دوران وزیر اعظم کے پاس دو ہی راستے ہیں کہ یا وہ خود کو احتساب کے لیے پیش کریں یا پھر مستعفی ہوں۔

اُنھوں نے کہا کہ جو سیاسی جماعتیں حکمرانوں کی حمایت کر رہی ہیں وہ دراصل ملک میں بدعنوانی کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہیں۔

عمران خان نے حکومت کو دھمکی دی کہ اگر اُنھیں نظر بند کرنے یا پھر اُن کے کارکنوں پر تشدد کرنے کی کوشش کی گئی تو حالات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔

اُنھوں نے کہا کہ بدعنوانی کے معاملے میں پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور وزیر اعظم میاں نواز شریف ایک ہی پیج پر ہیں۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت نے عدلیہ سمیت تمام اداروں میں اپنے بندے بھرتی کیے ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ احتساب کرنے والے ادارے موجودہ وزیر اعظم کا احتساب کرنے سے خوفزدہ ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پانامالیکس کے معاملے پر وزیر اعظم کی نااہلی سے متعلق درخواستوں کے سماعت کے لیے 20 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے جبکہ الیکشن کمیشن میاں نواز شریف کی نااہلی کی درخواستوں کی سماعت اگلے ماہ کرے گا۔

اسی بارے میں