پشاور میں تین افراد کے قتل کا معمہ تاحال حل نہ ہو سکا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین اور ایک مرد شامل ہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں حکام کا کہنا ہے کہ پیر کو شہر میں تین نامعلوم افراد کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں بری طرح جلائے جانے کے واقعہ کی تفتیش جاری ہے۔

حکام کے مطابق ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مرنے والے افراد کون ہیں اور انھیں کس وجہ سے قتل کیا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین اور ایک مرد شامل ہیں۔

٭پشاور کے علاقے حیات آباد سے سر بریدہ لاش برآمد

٭پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان سے چھ لاشیں برآمد

تہکال پولیس سٹیشن کے انچارج ارباب نعیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ان افراد کو کسی نامعلوم علاقے میں قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں پشاور کے علاقے تہکال میں پھینک دی گئیں۔

پولیس اہلکار نے کے مطابق مرنے والے افراد کی لاشوں کو پیٹرول یا کسی کیمیکل سے جلایا گیا جس سے لاشیں بری طرح مسخ ہوکر راکھ میں تبدیل ہوگئی ہیں اور اسی وجہ سے ان کی شناخت میں بھی مشکل پیش آ رہی ہے۔

ان کے مطابق ابھی تک صرف اتنا معلوم ہو سکا ہے کہ مرنے والوں میں دو خواتین اور ایک مرد شامل ہے۔

ارباب نعیم کے مطابق واقعے کی نوعیت اور مرنے والوں کی شناخت معلوم کرنے کےلیے تفتیش کا دائرہ اب دیگر صوبوں تک پھیلایا جا رہا ہے تاہم اب تک کوئی کامیابی نہیں ملی ہے۔

ان کے بقول 'غیرت کے نام پر قتل کے کیسسز میں بھی دو سے تین دن کے بعد حقائق سامنے آ جاتے ہیں لیکن اس واقعے میں پولیس کو تاحال کوئی ایسے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں جس سے لگتا ہے کہ یہ کوئی اور ہی معاملہ ہے۔'

ارباب نعیم کا مزید کہنا تھا 'غیرت' کے واقعات میں خواتین کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن اس کیس میں تو تشدد کی حد کردی گئی ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔

پولیس اہلکار نے کہا کہ لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے سے کرانے کےلیے ان کے جسموں سے نمونے حاصل کر لے گئے ہیں جنھیں لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے خواتین کی لاشیں پہلے بھی ملتی رہی ہیں تاہم ایسے واقعات کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں جس میں قتل کرنے کے بعد خواتین کی لاشوں کو بری طرح جلایا گیا ہو۔

بیشتر واقعات میں گمان یہی کیا جاتا ہے کہ خواتین کو غیرت کے معاملے پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے کیسسز کی تفتیش میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوتی کیونکہ ان واقعات میں نہ تو کسی کو ایف آئی آر میں نامزد کیا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی گواہی دینے کےلیے تیار ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں