الیکشن کمیشن کا نااہلی کے ریفرنس میں عمران خان کو پیش ہونے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تحریک انصاف نے پاناما لیکس کے معاملے پر دو نومبر کو وفاقی دارالحکومت کو بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے نااہلی کے ریفرنس پر حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کو دو نومبر کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان خود یا اُن کے وکیل کمیشن کے سامنے پیش نہ ہوئے تو یکطرفہ فیصلہ سنا دیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن نے عمران خان کو یہ نوٹس قومی اسمبلی کے سپیکر کی طرف سے اُن ( عمران خان) کی نااہلی سے متعلق بھیجے گئے ریفرنس پر جاری کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کی نااہلی سے متعلق ریفرنس حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے چھ ارکان اسمبلی کی طرف سے قومی اسمبلی کے سپیکر کو بھجوایا گیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ اس ریفرنس کی سماعت کرے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے پاناما لیکس کے معاملے پر دو نومبر کو وفاقی دارالحکومت کو بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

عمران خان کی نااہلی سے متعلق کمیشن نے اپنے نوٹس میں لکھا ہے کہ چونکہ اس ریفرنس کا فیصلہ محدود مدت میں ہونا ہے اس لیے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کو خود یا وکیل کے ذریعے کمیشن کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔

قومی اسمبلی کے سپیکر کی طرف سے بھجوایا گیا ریفرنس کا فیصلہ تین ماہ میں ہونا ہے اور اس طرح پانچ ستمبر کو الیکشن کمیشن کو عمران خان کی نااہلی سے متعلق قومی اسمبلی کے سپیکر کی طرف سے بھیجا گیا ریفرنس موصول ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ ریفرنس کی سماعت کرے گا

حکمراں اتحاد کے چھ اراکین اسمبلی کی طرف سے بھیجے گئے ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے مالی گوشواروں میں غلط بیانی سے کام لیا ہے۔

اس ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے اپنے مالی گوشواروں میں بیرون ملک جائیداد کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی اس آف شور کمپنی کا ذکر کیا ہے جو 30سال تک اُن کی ملکیت رہی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کے ریفرنس پر بھی الیکشن کمیشن نے نوٹس جاری کر دیا ہے اور اُنھیں بھی دو نومبر کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

جہانگیر ترین پر زرعی ٹیکس نہ دینے اور مختلف بینکوں سے لیے گئے قرضے بھی معاف کروانے کا الزام ہے۔

اسی بارے میں