’آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے سپریم کورٹ کے طریقۂ کار کو اپنایا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے وفاقی حکومت کو تجویز دی ہے کہ آرمی چیف اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین کی تعیناتی کے لیے سپریم کورٹ میں رائج طریقہ کار کو اپنائے۔

پارلیمنٹ ہاوس میں بدھ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سنیارٹی کے معاملے میں کسی بھی فوجی افسر کی وفاداری پر شک نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ ان تمام افسران نے اپنی سروس کے دوران ملک کا دفاع کیا ہے۔

ایکسٹینشن پر یقین نہیں رکھتا: جنرل راحیل شریف

’نئے آرمی چیف کی تعیناتی سنیارٹی کی بنیاد پر کی جائے‘

آرمی چیف، چیئرمین جوائنٹ چیفس کی تعیناتی ایک ساتھ

سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے بعد جو بھی لیفٹیننٹ جنرل سینئیر ہے اس کو جواننٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بنا دینا چاہیے جب کہ اس سے جونیئر کو آرمی چیف کے عہدے پر تعینات کیا جانا چاہیے۔

اپوزیشن لیڈر نے سپریم کورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو آوٹ آف ٹرن سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بنا دیا گیا جس سے خرابی پیدا ہوئی۔

سید خورشید شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے نظام کو موثر بنایا ہے جس کے بعد اسی جج کو چیف جسٹس کے عہدے پر تعینات کیا جاتا ہے جو سب سے سینئیر ہو۔

واضح رہے کہ آرمی چیف اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا چیئرمین تعینات کرنے کا اختیار وزیر اعظم کا ہے تاہم اس بارے میں وزیر اعظم اپنے قریبی ساتھیوں کے علاوہ سبکدوش ہونے والے آرمی چیف سے بھی مشاورت کرتے ہیں۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود اگلے ماہ کے آخر میں اپنے عہدوں سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف اپنی مدت ملازمت میں توسیع لینے سے پہلے ہی انکار کر چکے ہیں۔

جنرل راحیل شریف کو فیلڈ مارشل بنانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی ہے جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں