’میاں صاحب کا میچ فکس تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں آمریت کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں تقریباً تمام سیاسی جماعتیں ہیں لیکن ان جماعتوں کے اندر کتنی جمہوریت ہے اس حوالے سے ہمیشہ سے سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

ایک دن پہلے ہی منگل کو ملک میں حکمراں جماعت مسلم لیگ نون کی جنرل کونسل نے ایک بار پھر وزیراعظم نواز شریف کو پارٹی کا صدر بلامقابلہ صدر منتخب کیا ہے۔

اس پر مختلف صحافتی حلقوں میں ان انتخابات میں شفافیت اور غیر جمہوری ہونے کے بارے میں تذکرے ہو رہے ہیں۔

جس میں انگریزی اخبار پاکستان ٹو ڈے نے لکھا کہ سینکڑوں افراد نے صدر منتخب کرنا تھا جس میں اختلاف رائے سامنے آنا قدرتی امر تھا لیکن سارا سلسلہ مصنوعی محسوس ہوا۔ اخبار کے مطابق یہ ایک حقیقی انتخاب کی بجائے فکس میچ محسوس ہوتا ہے۔

مسلم لیگ نون کے رہنما اور پارٹی انتخابات میں چیف الیکشن کمشنر اور چیئرمین چوہدری جعفر اقبال نے اس رائے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی جانب سے ورکرز کو کسی قسم کی رکاؤٹ کا سامنا نہیں بلکہ ان انتحابات سے پہلے سب کو میڈیا کے ذریعے بھی آگاہ کیا گیا تھا کہ کوئی بھی عہدے کے لیے امیدوار بن سکتا ہے۔

'اور ہمارے پاس کوئی ایسا طریقہ نہیں اسی لیے ہم نے میڈیا کے ذریعے سب کو آگاہ کیا اگر کوئی بھی الیکشن لڑنا چاہتا تو لڑے لیکن اگر کوئی کاغذاتِ نامزدگی جمع نہیں کراتا تو ہم کیسے کسی ورکر کو گھر سے نکال کر کہا جائے کہ وہ آئیں۔'

چیئرمین چوہدری جعفر اقبال کے مطابق مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف کے مقابلے میں صرف ایک امیدوار سامنے آیا لیکن کاغذات کی جانچ پڑتال میں وہ اس وجہ سے نااہل قرار پایا کہ وہ پارٹی کی جنرل کونسل کا رکن ہی نہیں تھا اور اس کے بعد کونسل کے 19 سو ممبران نے میاں نواز شریف کو بلامقابلہ منتخب کر لیا۔

پارٹی میں جمہوریت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں چیئرمین چوہدری جعفر اقبال نے کہا ہے کہ 'مسلم لیگ نون میں اس وقت کچھ ناراض ارکان موجود ہیں اور یہ کافی سینئیر سیاست دان ہیں اور ان کے مسلم لیگ نون کی موجودہ قیادت سے اختلافات بھی ہیں اور وہ بھی میدان میں آ جاتے انھیں کسے نے روکا نہیں تھا لیکن وہ سامنے نہیں آئے۔'

تاہم انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ ورکرز میں شعور کی وجہ سے جماعتوں میں انتخابات کا حقیقی ماحول نہیں بن پاتا ہے۔

'میں جماعت کے جنرل سیکریٹری کے طور پر لوگوں کو کہتا رہا کہ وہ پارٹی انتخابات میں آگے آئیں لیکن وہ آتے نہیں تھے اور بدقسمتی سے جب لوگ آگے آتے نہیں ہیں تو وہ لوگ جو رہ جاتے ہیں تو ان میں سے ہی چناؤ کر لیا جاتا ہے کہ آپ صدر ہوں گے اور آپ جنرل سیکریٹری ہوں گے۔'

چوہدری جعفر اقبال کے مطابق پارٹی کے مرکزی صدر کے انتخاب کے بعد بدھ کو پنجاب کے صدر کا انتخاب ہوا ہے اور پھر اس کے بعد دوسرے صوبوں کے صدر منتخب ہوں گے اور بعد میں ضلعی سطح پر انتخاب منعقد ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے الیکشن کمیشن کے قوانین کے تحت سیاسی جماعتوں کو انتخابات لازمی منعقد کرانا ہوتے ہیں اور اس حوالے سے اپنی رپورٹ جمع کرانا ہوتی ہے۔

اس میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے اندر انتخابات تاخیر کا شکار ہیں اور اب قیادت کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ آئندہ برس جنوری میں یہ انتخابات منعقد کرائے جائیں گے۔

مسلم لیگ نون کی طرح پیپلز پارٹی پر بھی قیادت صرف ایک خاندان تک محدود ہونے اور پارٹی میں جمہوریت کے فقدان کی باتیں ہوتی ہیں۔

اس پر پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر تاج حیدر کے بقول'جمہوریت کے مخالف عناصر ایسی باتیں کرتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت نہیں اگر پارٹی میں جمہوریت نہ ہو، حالانکہ دوسری طاقت اسٹبلشمنٹ کیا منتخب قیادت ہے؟ ہمارے ہاں اس وقت جمہوریت استحکام کے مراحل میں گزر رہی ہے اور اس وقت اگر دوسرا طریقہ اپنایا جائے گا تو پارٹیوں میں انتشار پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے جس میں اسٹبلمشنٹ اپنے لوگوں کو اس میں ڈال دیے جس میں نئی بحث شروع ہو گئی اور پھر الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔'

انھوں نے کہا ہے کہ ملک میں مزید تین چار انتخابات ہو جائیں اور جمہوریت مستحکم ہو جائے تو اس کے بعد یہ مرحلہ بھی آئے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پیپلز پارٹی کے اندر انتخابات کے بارے میں بات کرتے ہوئے سینیٹر تارج حیدر نے کہا کہ صوبہ سندھ میں آرگنائزنگ کمیٹیاں بنائی گئی اور انھوں نے ہر ضلع میں پارٹی کارکنوں سے طویل مشاورت کی اور اس کے بعد صوبے میں پارٹی کی قیادت کے لیے تین نام سامنے آئے ہیں اور اس میں سے ایک نام کا انتخاب کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا ہے کہ یہ ہی طریقہ کار ملک کے دیگر صوبوں میں ممکنہ طور پر اپنایا جائے گا اور جب نچلی سطح پر پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ مکمل ہو جائے گا تو یہ مرکزی قیادت کا انتخاب کرے گا۔

مسلم لیگ نون کی جانب سے ایک سال کی تاخیر کے بعد تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی سے پہلے پارٹی انتخابات کرانے کے فیصلے پر سینیٹر تاج حیدر نے کہا ہے کہ اس وقت وزیراعظم اس وقت جن مسائل سے گزر رہے ہیں ان میں انھوں نے اپنی جماعت کی حمایت لینا ضروری سمجھی۔'

ملک کی تسیری بڑی جماعت تحریک انصاف جو موروثی سیاست کی سب سے بڑی مخالف سمجھی جاتی ہے، اس کے سربراہ عمران خان نے اپریل میں پاناما لیکس کے بعد احتجاجی مظاہروں کے لیے جماعت میں انتخابات موخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تحریک انصاف کے گذشتہ انتخابات بھی متنازع ہو گئے تھے اور نئے انتخابات میں مسلسل تاخیر کے بارے میں جماعت کے سینیئر رہمنا عارف علوی سے جب پوچھا تو انھوں نے جماعت کے اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا:'ابھی پاناما کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے اور انتخابات کی کوئی پلاننگ نہیں ہو رہی، ہم نے انتخابات کی پوری تیاری کر رکھی تھی لیکن درمیان میں پاناما لیکس کا مسئلہ آ گیا اور اس وجہ سے اسے ہم نے ایک طرف کر دیا۔'

اسی بارے میں