’بس کہہ دیں وزیر اعظم کو طلب کیا گیا ہے'

عمران تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاناما لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم کو کام سے روکنے اور اُنھیں نااہل قرار دینے سے متعلق درخواستوں کی سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی کورٹ روم نمبر ون سیاست دانوں اور وکلا سے بھرا پڑا تھا۔

کورٹ روم نمبر ون میں پاکستان کے چیف جسٹس کی عدالت واقع ہے۔

ایک طرف پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور اُن کی جماعت کے دیگر قائدین بیٹھے تھے جبکہ دوسری طرف وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق کے علاوہ حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ بھی موجود تھے۔

کورٹ روم نمبر ون میں صحافیوں کے لیے مختص کی گئی نشستوں پر بھی وکلا اور سیاست دانوں کا قبضہ تھا۔

مختصر سماعت کے بعد جب وزیر اعظم کو عدالت عظمیٰ کی طرف سے نوٹس جاری کردیا تو پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو فکر پڑ گئی کہ باہر میڈیا کو کیا جواب دینا ہے۔

ان درخواستوں میں پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حامد حان نے اپنی جماعت کے سربراہ عمران خان کو بتایا کہ ابھی صرف وزیر اعظم سے دو ہفتوں میں جواب طلب کیا گیا ہے۔

عمران خان نے فوری طور پر حامد خان سے پوچھا کہ کیا ہم ان درخواستوں کی روزانہ کی بنیاد پر کرنے کی درخواست دے سکتے ہیں جس پر اُن کے وکیل مسکرائے اور کہا جب ان درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنے گا تو پھر اس بارے میں درخواست دی جاسکتی ہے۔

پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی بھی گفتگو میں شامل ہوئے اور اُنھوں نے عمران خان سے کہا کہ 'بس کہہ دیں کہ وزیر اعظم کو نوٹس نہیں ہوا بلکہ طلب کیا گیا ہے'۔

عمران خان کی باڈی لینگویج سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان درخواستوں کی ابتدائی سماعت کے بعد وہ جس فیصلے کی توقع کرر ہے تھے وہ شاید نہیں آیا اور اُن کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔ تاہم جب اُن سے کسی مداح نے پوچھا کہ 'خان صاحب کیا آپ اس فیصلے سے خوش ہیں' تو اُنھوں نے مسکرا کر کہا 'جی بہت خوش ہوں'۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اس وقت سپریم کورٹ کے احاطے میں پہنچے جب ان درخواستوں کی سماعت ہوچکی تھی۔ واضح رہے کہ سراج الحق نے بھی پاناما لیکس کے معاملے پر سپریم کورٹ میں درخواست دے رکھی ہے۔

سپریم کورٹ کے احاطے میں موجود جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے عدالتی کارروائی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد سراج الحق نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کی۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران حکومتی نمائندے بڑے سنجیدہ اور مطمئن دکھائی دے رہے تھے اور سماعت کے بعد ان کا موقف یہ تھا کہ جب ان درخواستوں کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوچکی ہے اس لیے پاکستان تحریک انصاف کو دو نومبر کو اسلام آباد میں دھرنے کی کال کو واپس لے لینا چاہیے جبکہ پی ٹی آئی کی قیادت ایسا کرنے کو تیار نہیں ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاناما لیکس کے معاملے پر عدالتی فیصلہ اتنی جلدی نہیں آئے گا جتنی اُمید پاکستان تحریک انصاف نے لگا رکھی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج شاہ خاور کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی کہ سپریم کورٹ میں اس معاملے کو طول دیا جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ حکومت اگلی سماعت پر ان درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں بھی سوال اُٹھا سکتی ہے۔

سماعت کے دوران حکومتی وزارا جمعرات کو دفاع پاکستان کونسل کے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس کے بارے میں بھی گفتگو کرتے رہے جس کے بارے میں حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف دھرنے کے دوران چند شدت پسند تنظیموں کی خدمات بھی حاصل کی ہیں۔

حکومتی وزرا خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، طارق فضل اور حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ اس وقت تک سپریم کورٹ کی عمارت سے باہر نہیں نکلے جب تک عمران خان اور دیگر درخواست گزار سپریم کورٹ کے احاطے سے باہر نہیں نکل گئے۔

میڈیاسے گفتگو کے دوران وفاقی وزرا نے عمران خان کی طرز سیاست کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ خواجہ آصف کے مطابق حکومت نے احتجاجی دھرنے کو روکنے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی ہے تاہم اُنھوں نے اس کی تفصیلات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں