ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت ایک بار پھر ملتوی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں القاعدہ کے سربراہ کے اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے میں امریکہ کی مدد کرنے کے الزام میں زیرِ حراست ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کے خلاف نظرثانی کی اپیل کی سماعت ایک مرتبہ پھر ملتوی کر دی گئی ہے اور اب سماعت یکم دسمبر کو ہوگی۔

جمعرات کو نظرثانی کی درخواست پر سماعت فاٹا ٹریبیونل میں ہونا تھی لیکن سرکاری وکیل حاضر نہیں ہوئے جس کی وجہ سے سماعت ملتوی کر دی گئی۔

شکیل آفریدی کے وکیل قمر ندیم نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ سرکاری وکیل حاضر کیوں نہیں ہوئے لیکن اب یہ سماعت تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد ہوگی۔

یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ مقدمے کہ سماعت ملتوی کی گئی ہے بلکہ شکیل آفریدی کے وکیل قمر ندیم ایڈووکیٹ کے مطابق جون 2014 میں یہ نظر ثانی کی درخواست فاٹا ٹریبیونل میں جمع کرائی گئی تھی اور اب تقریباً 23 مرتبہ یہ تاریخ ملتوی کی جا چکی ہے۔

اس سے پہلے سماعت اس وجہ سے ملتوی کر دی جاتی تھی کیونکہ فریقین اس مقدمے کا تمام ریکارڈ پیش نہیں کر پا رہے تھے۔

فاٹا ٹریبیونل میں اپیل دائر کرنے کے بعد ٹریبیونل کے ارکان کے تقرر میں تاحیر کی وجہ سے سماعت ملتوی ہوتی رہی اور پھر جب ٹریبیونل تشکیل دے دیا گیا تو اس ٹریبیونل نے حکم دیا تھا کہ پولیٹکل انتظامیہ اس مقدمے کا مکمل ریکارڈ پیش کرے۔

قمر ندیم ایڈووکیٹ نے بتایا کہ انھوں نے شکیل آفریدی کو سنائی گئی سزا کے بعد نظر ثانی کی درخواست فاٹا ٹریبیونل میں دائر کی تھی جس میں کمشنر پشاور ڈویژن کے فیصلے پر نظر ثانی کی استدعا کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کمشنر پشاور ڈویژن نے اپیل کورٹ میں دائر درخواست پر فیصلے میں شکیل آفریدی کی سزا میں دس سال کی کمی کر دی تھی جبکہ ان کا موقف تھا کہ شکیل آفریدی کو دی گئی 33 سال کی سزا ساری ختم کی جائے۔

اس درخواست میں انھوں نے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ، پولیٹکل ایجنٹ خیبر ایجنسی اور کمشنر پشاور ڈویژن کو ریکارڈ کے ہمراہ پیش ہونے کی استدعا کی تھی۔

قمر ندیم کے مطابق سرکار کی جانب سے بھی کمشنر کے فیصلے کے خلاف اپیل کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شکیل آفریدی کی 33 سال کی سزا برقرار رکھنے کی درخواست کی گئی ہے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سنہ 2012 میں پشاور میں کارخانوں کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ان پر بظاہر یہ الزام عائد تھا کہ وہ امریکہ کے لیے جاسوسی کا کام کرتے تھے لیکن خیبر ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیکل ایجنٹ کی جانب سے انھیں سزا شدت پسند تنظیم کے ساتھ تعلق رکھنے کے الزام پر دی گئی۔

اسی بارے میں