ہنزہ کا کریم آباد اور ترقی کی ٹافی

Image caption ہنزہ کے وہ بازار جو چند سال قبل تک پرسکون ہوا کرتے تھے، آج ایک مار پیٹ، معافی چاہتا ہوں والی مارکیٹ میں تبدیل ہوچکے ہیں

ہنزہ کے کریم آباد اور کراچی کے کریم آباد میں فرق جو ہے سو اتنا ہے، کہ ہنزہ کا کریم آباد پہاڑوں میں گھری ایک وادی ہے، جبکہ کراچی کا کریم آباد ساحلی شہر کا ایک ایسا علاقہ جہاں دور دور تک کسی پہاڑ کا نام و نشان نہیں، سوائے کٹی پہاڑی کے جس کے بارے میں شائستہ گفتگو کرنا ذرا مشکل ہے۔

ورنہ کراچی کے کریم آباد میں بھی نفسانفسی کا عالم ہے، اور ہنزہ کے کریم آباد میں بھی۔ ہنزہ کے وہ بازار جو چند سال قبل تک پرسکون ہوا کرتے تھے، آج ایک ’مار پیٹ، معافی چاہتا ہوں‘ والی مارکیٹ میں تبدیل ہوچکے ہیں۔

جس قسم کی افراتفری افطار سے ایک گھنٹے پہلے سموسے کی دکان پہ ہوتی ہے، ویسی ہی نوچ گھسوٹ ہنزہ کے بازاروں میں روزانہ کا معمول بن چکی ہے۔

جیسے کراچی میں نمکو اور بدایوں کے پیڑوں کے کئی مراکز ہیں، اور ہر کوئی اصلی اور دیسی ترین ہونے کے دعوے کرتا ہے، اسی طرح ہنزہ میں بھی ہنزہ کی روایتی اور اصلی ترین ربڑی، قلفی اور چیری کی مٹھائی کے کئی مراکز ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ہنزہ میں خوردونوش کی ان اشیا کی قدیم روایت فقط دو چار سال قبل ہی کسی مارکیٹنگ والے نے بذریعہ پمفلٹ ایجاد کی ہے۔

کوڑے کرکٹ کے انبار ادھر بھی ہیں اور ادھر بھی۔ کراچی میں انسانی جدیدیت کا فضلہ پل کے نیچے، سڑک کنارے، فٹ پاتھ اور دکانوں کے سامنے سجا رہتا ہے جبکہ ہنزہ میں یہ اعزاز گلیشیر کے دامن پر اور چشموں کے درمیان لہلہاتی تھیلیوں اور استعمال شدہ دودھ، بسکٹ، مصالوں کے ڈبوں کو حاصل ہے، جو ہری بھری وادی میں پھولوں کی طرح لال پیلے رنگ بکھیرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PAMEER TIMES
Image caption ماحولیات کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے یہ انسٹالیشن بنائی

جو حال کراچی کے کریم آباد سے گزرتی ہوئی لیاری ندی کا ہے (جو کسی زمانے میں دریا ہوا کرتی تھی)، عین وہی حال آج ہنزہ میں پانی کے چشموں کا ہے۔ کراچی والوں کی طرح آج ہنزہ کے باسی اور سیاح حضرات بھی منرل واٹر کی استعمال شدہ بوتلیں انھیں چشموں اور دریا میں پھینکتے ہیں جن سے کچھ دہائی قبل، یہ منہ لگا کر پانی پیا کرتے تھے۔

ڈیزل کے انجن کراچی میں تو دندناتے پھرتے ہیں ہی، آج ہنزہ کے کریم آباد میں بھی دیو ہیکل بسیں فضا میں کالا دھواں اُڑائے دوڑے چلی جاتی ہیں۔ ٹریفک کا یہ عالم ہے کہ کراچی کے کریم آباد میں بھی چار پانچ کلومیٹر کا راستہ طے کرنے میں بعض اوقات گھنٹوں لگ جاتے ہیں اور ہنزہ میں بھی چھوٹی بڑی گاڑیاں قطار در قطار لب پہاڑ کھڑے ہارن کی شکل میں بے ہنگم موسیقی بپا کیے رہتی ہیں۔

کراچی کے کریم آباد میں بھی ’راجہ کو رانی سے پیار‘ کی دھن اس زور سے بجائی جاتی ہے، کہ پیار تو دور کی بات، کان پھٹنے لگیں اور دل لرز اٹھے۔ ہنزہ کے کریم آباد کا عالم بھی کچھ مختلف نہیں۔ ’آل پاکستان ٹور‘ پر آنے والے لوگ اپنی گاڑیوں کے سپیکر پھاڑ کے کوسوں دور وادیوں کو ایسے جھنکار سنا رہے ہوتے ہیں کہ الله کی پناہ۔

کراچی میں بھی بڑے بڑے بل بورڈ منہ چڑاتے ہیں، جبکہ بغیر کسی منصوبے کے بلند و بالا عمارتوں کا جنگل، پانی کی قلّت، پتلی سڑک اور ابلتے گٹر متعلقہ اداروں کے منہ پر ایک طمانچے سے کم نہیں۔ ہنزہ میں بھی ہر گھر میں آسان قرضے پر ملی دو دو گاڑیاں اور پندرہ پندرہ منزلوں کی عمارتیں محدود زمین پر لامحدود بوجھ ڈالے کھڑی ہیں۔

بہرحال ، چلو اچھا ہے۔ یہ ترقی کی ٹافی صرف کراچی کے کریم آباد والے ہی کیوں کھائیں۔ آخر ہنزہ کے کریم آباد والوں کو بھی تو وہ ٹافی کھانے کا حق ہے کہ نہیں؟

اب آنے والی نسلوں کو وہی صحت مند ماحول، صاف آب و ہوا میسّر ہو یا نہ ہو، سانوں کی!

اسی بارے میں