کالعدم جماعت کے رہنما سے چوہدری نثار کی ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ PID

پاکستان کی مذہبی جماعتوں کے اتحاد ’دفاع پاکستان کونسل‘ کے ایک وفد نے کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کی جس میں انسداد دہشت گردی کے شیڈول فور میں شامل کالعدم مذہبی جماعت اہل سنت و الجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی بھی شامل تھے۔

جمعے کو وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں وزیر داخلہ چوہدری نثار سے مولانا سمیع الحق کی سربراہی میں دفاع پاکستان کونسل کے وفد نے ملاقات کی۔

خیال رہے کہ مذہبی شدت پسند تنظیم سپاہ صحابہ پر 2001 میں پابندی لگائی گئی تھی اور اس کے چند برس بعد اس جماعت نے اہل سنت و الجماعت کے نام سے اپنا کام شروع کر دیا تھا۔ اسے بعد میں کالعدم قرار دے دیا گیا اور اس جماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی کا نام انسداد دہشت گردی کے شیڈول فور میں شامل ہے۔

مولانا محمد احمد لدھیانوی پر سابق پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران اسلام آباد داخلے پر پابندی عائد تھی۔

اس ملاقات کے بارے میں وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے وفد سے کہا ہے کہ تمام صوبوں سے کہا جائے گا کہ وہ شیڈول فور کی فہرستوں کا دوبارہ جائزہ لیں۔

اس کے علاوہ وفد کو یقین دہانی کرائی گئی کہ شیڈول فور میں شامل افراد کے شناختی کارڈ اور شہریت منسوخ نہیں کی جائے گی، آئندہ اس قسم کے فیصلوں سے مکمل اجتناب کیا جائے اور صوبائی حکومتوں سے مل کر دینی حلقوں کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں حکومت نے فورتھ شیڈول میں شامل افراد کے شناختی کارڈ منسوخ کر دیے تھے جن میں مولانا محمد احمد لدھیانوی کا نام بھی شامل تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے مذہی جماعتوں کے اتحاد سے ایک ایسے وقت ملاقات کی ہے جب حکومت تحریک انصاف پر الزام عائد کر رہی ہے کہ اس نے اسلام آباد میں احتجاج کے لیے مذہبی جماعتوں سے اپنے کارکن مہیا کرنے کے لیے رابط کیا ہے جبکہ تحریک انصاف نے اس کی تردید کی ہے۔