ایم کیو ایم کی عبوری رابطہ کمیٹی کے رہنما حراست میں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کے شہر کراچی میں رینجرز نے پریس کلب کے باہر سے الطاف حسین کی حامی ایم کیو ایم کی عبوری رابطہ کمیٹی کے دو اراکین کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

حراست میں لیے جانے والوں میں پروفیسر حسن ظفر عارف اور کنور خالد یونس شامل ہیں۔

یاد رہے کہ الطاف حسین کی جانب سے ندیم نصرت کو ایم کیو ایم کا نیا کنوینر مقرر کیا گیا تھا۔ الطاف حسین نے ان کے ساتھ 12 رکنی رابطہ کمیٹی کا اعلان بھی کیا گیا تھا جس کے نو اراکین کراچی میں تھے۔

ان افراد نے 14 اکتوبر کو ایک پریس کانفرنس میں الطاف حسین کی مکمل حمایت اور تعاون کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ مائنس ون فارمولہ نہیں چل سکتا۔

ایم کیوایم کی عبوری رابطہ کمیٹی کے رکن امجد اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے سنیچر کو شام چار بجے ایک پریس کانفرنس کرنی تھی جس کے لیے وہ پریس کلب پہنچے تھے۔

تاہم رینجرز نے ان کے ساتھیوں پروفیسر حسن ظفر عارف اور کنور خالد یونس کو پریس کلب میں داخل ہونے نہیں دیا۔

امجد اللہ خان کے مطابق وہ پریس کانفرنس میں چند نئے ساتھیوں کی تنظیم میں شمولیت کا اعلان کرنے والے تھے۔

اراکین کو حراست میں لیے جانے کے بعد ایم کیوایم نے پریس کانفرنس ملتوی کردی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں