اسلام آباد دھرنا: تحریک انصاف اور حکومت اپنے اپنے موقف پر قائم، پیلز پارٹی کا محتاط رویہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تحریک انصاف نے دو نومبر کو اسلام آباد کو احتجاجی دھرنے کے ذریعے مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے

پاکستان میں سیاست کے ایوان میں ایک بار پھر ہلچل ہے جس میں تحریک انصاف نے اسلام آباد کو بند کرنے کے فیصلے پر قائم رہنے کا اعلان کرتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کیے ہیں جبکہ حکومت نے اسے موجودہ جمہوری نظام میں خلل ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

سنیچر کو تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ ق کی قیادت سے ملاقات کی جس میں ق لیگ نے اسلام آباد میں دھرنے کی حمایت کا اعلان کیا۔

اسلام آباد بند کرنے کی کال، حکومت کا پارلیمانی جماعتوں سے رابطے کا فیصلہ

دوسری جانب 2014 میں مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنے کے دوران حکمراں جماعت کی حمایت کرنے والی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے محتاط رویہ اپنائے رکھا ہے۔

تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی کے مطابق حکومت کا یہ کہنا ہے کہ پاناما لیکس کا معاملہ اب سپریم کورٹ میں ہے اس وجہ سے احتجاجی دھرنے کو منسوخ کر دیں، صرف خانہ پوری ہے کیونکہ حکومت اس معاملے کو حل کرنے میں ابھی تک سنجیدہ نہیں ہیں۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ تحقیقاتی اتھارٹی نہیں ہے اور ہمارا احتجاج حکومت اور ان اداروں کے خلاف ہے جو پاناما لیکس کے معاملے کو دبا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عمران خان نے 2014 میں مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف احتجاج کیا تھا اور اب بدعنوانی اور پاناما لیکس میں وزیراعظم کے خاندان کا نام آنے پر احتساب کے لیے احتجاج کر رہے ہیں

انھوں نے کہا ہے کہ 'وزیراعظم نواز شریف کہتے ہیں کہ میں خود کو احتساب کے لیے پیش کر چکا ہوں لیکن کہاں کیا؟ اگر وہ مخلص ہوتے تو احتساب بیورو کی سرزنش کرتے کہ ابھی تک اس معاملے کی تحقیقات کیوں شروع نہیں ہو سکی ہیں، پھر کہتے ہیں کہ اخبار کی اطلاع پر کارروائی نہیں کر سکتے تو پھر ایگزٹ نامی ادارے کو ایک خبر پر بند کیوں کر دیا۔'

عارف علوی نے کہا کہ دو نومبر کو تحریک انصاف کا اسلام آباد کو بند کرنے کے لیے احتجاجی دھرنا اپنے شیڈول کے مطابق ہو گا اور اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خورشید شاہ نے احتجاجی دھرنے کے بارے میں محتاط رویہ اپنایا ہے

انھوں نے حکومت کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کے پیش نظر سیاسی جماعتوں سے رابطوں کے فیصلے پر کہا ہے کہ حکومت صرف معاملے کو ٹالنے اور توجہ ہٹانے کے لیے ایسے اعلانات کر رہی ہے، اگر سنجیدہ تھی تو پہلے سات ماہ ایسا کیوں نہیں کیا۔

حکومت کی جانب سے تحریک انصاف پر کالعدم مذہنی جماعتوں سے رابطوں کے الزام پر عارف علوی نے کہا کہ ’کل جمعے کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ کی ان جماعتوں سے ملاقات ہوئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے۔'

حکومت کی جانب سے پاناما لیکس کا معاملہ سپریم کورٹ میں جانے پر احتجاج منسوخ کرنے کے مطالبے پر پارلیمان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا:'یہی بات اگر نواز شریف پہلے مان لیتے جب ہم چیخ رہے تھے تو بہتر ہوتا اور دباؤ میں آ کر بات ماننا کون سی اچھی بات ہے۔'

انھوں نے کہا ہے کہ 'وزیراعظم نواز شریف کو پاناما لیکس کے کیس میں عدالت میں پیش ہونا چاہیے اور وہ ہوں گے کیونکہ اس وقت وہ پریشان ہیں، بہت پریشان ہیں۔'

خورشید شاہ نے سکھر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے 2014 میں دھرنوں کے دوران حکمراں جماعت کا ساتھ دینے کے حوالے سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا: 'کیا ہمارا کوئی اور کام نہیں ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نواز شریف خود کو احتساب کے لیے پہے ہی پیش کر چکے ہیں: پرویز رشید

انھوں نے تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کو بند کرنے کے اعلان پر کہا کہ احتجاج کرنا ہر کسی کا آئینی حق ہے لیکن کسی شہر یا ادارے کو بند کرنا غیر آئینی اقدام ہے اور حکومت کی جانب سے احتجاج کے موقع پر گرفتاریاں کرنے کی اطلاعات پر ہم اپنا ردعمل اس وقت دیں گے کہ حکومت کس بنیاد پر یہ گرفتاریاں کر رہی ہے لیکن ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ 'عمران خان کو سیاست نہیں آتی اور نواز شریف کو حکومت کرنا نہیں آتا ہے۔'

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے رویے سے لگتا ہے کہ ان کو نہ تو احتساب اور نہ ہی پاناما لیکس کے معاملے سے کچھ لینا دینا ہے بلکہ ان کے نام پر وہ موجودہ جمہوری نظام میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں جس میں عمران خان اکیلے میدان میں رہ جائیں گے۔

پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطوں سے متعلق سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے ہر وقت رہتے ہیں اور تمام جماعتیں متفقہ طور پر محسوس کرتی ہیں کہ موجودہ نظام کا تسلسل قائم رہنا چاہیے۔

تحریک انصاف سے بات چیت کے بارے میں انھوں نے کہا کہ مذاکرات کے دورازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں اور کوئی بھی سیاستدان مذاکرات کے راستے کو ترک نہیں کرتا ہے اور دوسرا یہ کہ پاناما لیکس کا معاملہ اب سپریم کورٹ میں چلا گیا ہے اور اس کو وزیراعظم نواز شریف نے کھلے دل سے تسلیم بھی کیا ہے۔

انھوں نے اسٹیبلشمنٹ سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت ہمیشہ اس کوشش میں رہتی ہے کہ کسی بھی نازک مرحلے پر ملک کے اداروں کا ٹکراؤ کرایا جائے۔

اسی بارے میں