بوند بوند پانی کو ترستے گوادر کے شہری

گوادر
Image caption گوادر اور اس کے نواحی علاقوں میں تین لاکھ کے قریب آبادی پانی کی قلت کا شکار ہے

دور دور تک خشک بنجر زمین اور اڑتی ریت کی دھول میں پانی کے ایک ٹینک سے ٹپکتی آخری بوندوں کے حصول کی امید لیے تپتی دھوپ میں کھڑی خواتین اور بچیاں۔

یہ بلوچستان کے کسی دور دراز گاؤں کا نہیں بلکہ گوادر کا ایک منظر ہے جو نہ صرف چین پاکستان اقتصادی راہداری کا اہم حصہ ہے بلکہ یہاں ایک 'میگا سٹی' قائم ہونے جا رہا ہے۔

گوادر میں مفلسی اور دیگر معاشی مسائل کے باوجود وہاں کے لوگوں کو صرف اپنے بنیادی حق یعنی پانی کی فکر کھائے جا رہی ہے۔

بارہ سالہ الیزائی بھی چھوٹی بچیوں کی ایک ایسی ہی لمبی قطار میں کھڑی ہیں جہاں ان کی مائیں گندا اور محدود پانی مٹکوں میں بھر کر ان کے سروں پر لاد رہی ہیں۔

یہ بچیاں تعلیم اور ترقی کا سفر طے کرنے کی بجائے گھر سے اس واٹر ٹینک تک کا سفر ہی طے کرتی ہیں تاکہ ان کے خاندان کی پیاس بجھ سکے اور ان کے مطابق بیس دن بعد آنے والا پانی، چند دنوں میں ختم ہو جاتا ہے۔

الیزائی کی بڑی بہن گل بی بی کے چہرے پر اپنی کم عمر سے کہیں زیادہ تھکاوٹ کےآثار ہیں۔

'ہمیں ایسے لگتا ہے جیسے ہماری ساری زندگی بس پانی ڈھونڈتے اور پانی کے بارے میں سوچتے گزر رہی ہے۔ بچے سارا دن پانی کے لیے بلکتے ہیں لیکن ہم مجبور ہیں، قطرہ قطرہ گن گن کر استعمال کرنا پڑتا ہے۔'

Image caption دو برسوں سے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے شہر کو پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ آنکڑا ڈیم تقریباً خشک ہو چکا ہے

مقامی حکام کے مطابق بلوچستان کا یہ ساحلی شہر سنہ 2012 کے بعد تیسری بار ایک بار پھر پانی کے شدید بحران سے دوچار ہے۔

گذشتہ دو برسوں سے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے شہر کو پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ آنکڑا ڈیم تقریباً خشک ہو چکا ہے اور گوادر اور اس کے نواحی علاقوں میں تین لاکھ کے قریب آبادی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اربوں روپے کے منصوبوں میں کچھ رقم پانی کے متبادل ڈیم کے لیے مختص تو کی گئی ہے لیکن اس میں تاخیر کی وجہ سے پانی کا بحران ہنگامی نہج پر پہنچ گیا ہے۔

گوادر کے ڈی سی او طفیل بلوچ نے بتایا کہ آنکڑا ڈیم سنہ 1990 کی دہائی میں 25 ہزار کی آبادی کے لیے تعمیر کیا گیا تھا لیکن آبادی اب تین لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور ڈیم کی گنجائش 50 فیصد سے کم ہو چکی ہے۔

حکام کے مطابق یہ پانی بھی پینے کے قابل نہیں ہے اور انسانی صحت کے لیے نہایت مضر ہے۔

طفیل بلوچ نے کہا 'اس وقت حالات خطرے کی ہنگامی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ حکومت نے متبادل ڈیم کی تعمیر کے منصوبے شروع کیے ہیں لیکن ان کے ٹینڈر اب بھی وفاقی حکومت کے پاس پڑے ہوئے ہیں۔ جہاں ایک طرف گوادر پورٹ کے حوالے سے میگا سٹی کی بات ہو رہی ہے ، وہاں یہ مسئلہ حل ہو گا تب ہی ترقیاتی کام آگے بڑھ سکتا ہے۔'

مقامی لوگوں کے مطابق گوادر کی بندرگاہ کی تعمیر سے جڑی سرمایہ کاری کی حالیہ آمد نے محدود وسائل پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔ بندرگاہ سے جڑے ترقیاتی کام کے لیے پانی صاف کرنے کا خصوصی پلانٹ موجود ہے ، لیکن آبادی ایسی سہولت سے محروم ہے۔

مقامی سیاسی رہنماؤں کے مطابق یہی وہ حالات ہیں جن کی وجہ سے گوادر کی آبادی بیگانگی کے احساس کا شکار ہے۔

حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی کا کہنا ہے کہ 'ہم گوادر کے لوگوں کے نمائندے ہیں لیکن ہمیں اس تمام ترقیاتی عمل میں شامل نہیں کیا جا رہا ، ہم اپنے لوگوں کے سوالوں کا کیا جواب دیں ؟'

Image caption لوگ گدھا گاڑیوں پر لاد کر لائے گئے کنستروں میں بھرا پانی گوادر کے شہریوں کو مہنگے داموں بیچتے دکھائی دیتے ہیں

انھوں نے کہا 'گوادر کے لوگ ترقی کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن وہ خود بھی اس کا حصہ بننا چاہتے ہیں، جہاں ان کو پانی تک نصیب نہیں تو وہ یہ ہی سمجھیں گے کہ گوادر پورٹ کا سارا فائدہ انھیں نہیں باہر کے لوگوں کو ہی ہو رہا ہے۔'

یہ تضاد شہر میں تعمیر کی گئی نئی سڑکوں پر بھی نظر آتا ہے جہاں لوگ خچروں پر لاد کر لائے گئے کنستروں میں بھرا پانی گوادر کے شہریوں کو مہنگے داموں بیچتے دکھائی دیتے ہیں۔

جن خشک راستوں پر گوادر کے یہ لوگ اپنے بنیادی حق کی تلاش میں سفر کرتے ہیں وہاں سے شاید تعمیر اور ترقی کے رنگین خواب دور کے ڈھول ہی معلوم ہوتے ہوں۔

اسی بارے میں