لشکرِ جھنگوی العالمی ہے کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فرنٹیئر کور کے سربراہ میجر جنرل شیر افگن نے حملے کے بعد پریس کانفرنس میں لشکر جھنگوی العالمی کو حملے کا ذمہ دار قرار دیا

کوئٹہ میں پولیس کے تربیتی مرکز پر ہونے والے حملے کے بعد بلوچستان میں فرنٹیئر کور کے سربراہ میجر جنرل شیر افگن کا کہنا ہے کہ اس حملے میں لشکر جھنگوی العالمی ملوث ہے اور حملہ آور افغانستان سے ہدایات لے رہے تھے۔

تاہم تحریکِ طالبان پاکستان کراچی کے نام سے بی بی سی کو موصول ایک پیغام میں حکیم اللہ محسود گروپ کے ملا داؤد منصور کی جانب سے یہ حملہ کرنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے تاہم آزاد ذرائع سے ‏اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

بیان کے مطابق اس حملے میں چار حملہ آور شامل تھے اور یہ حکومتی کارروائیوں کا ردعمل ہے۔

ادھر کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے منگل کی صبح بلوچستان کے علاقے مستونگ میں ایک مبینہ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا پیغام تو جاری کیا ہے لیکن پولیس کے تربیتی مرکز پر حملے کے بارے میں وہ خاموش ہیں۔

حکام کی جانب سے اس حملے کے حوالے سے جس تنظیم، یعنی لشکر جھنگوی العالمی، کا نام لیا گیا ہے وہ پاکستان میں متحرک شدت پسند تنظیموں میں زیادہ فعال دکھائی نہیں دیتی۔

اس کالعدم تنظیم کا قیام بنیادی طور پر فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث گروپ لشکری جھنگوی کے ٹوٹنے سے عمل میں آیا تھا۔ اس کے علاوہ ایشیئن ٹائیگرز، جنداللہ اور جند الحفصہ نامی دیگر ایسے گروپ تھے جنھوں نے لشکر جھنگوی سے جنم لیا تھا۔

لشکر جھنگوی خود بھی سنہ 1996 میں ایک دوسری فرقہ وارانہ تنظیم سپاہ صحابہ کی کوکھ سے پیدا ہوئی تھی اور کراچی سے لے کر قبائلی علاقوں تک فوجی آپریشن ضرب عضب سے قبل اپنا وجود رکھتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حملے میں 100 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں

لشکرِ جھنگوی العالمی کالعدم تحریک طالبان پاکستان یا تحریک طالبان جماعت الحرار کی طرح سرگرم تو نہیں ہے لیکن یہ حملہ کراچی اور پنجاب میں شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائیوں کا ردعمل ہوسکتا ہے۔

اس سال اگست میں کراچی میں رینجرز نے لشکرِ جھنگوی العالمی کے ایک رہنما سید صفدر کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی تھی۔ سید صفدر عرف یوسف خراسانی پر الزام ہے کہ وہ ملک میں دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

لشکر جھنگوی العالمی نے کوئٹہ میں جنوری سنہ 2013 میں ایک حملے میں 92 جبکہ فروری میں ایک بازار پر حملے میں 81 افراد کے قتل کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔ ان حملوں میں مرنے والوں کی اکثریت شیعہ ہزارہ برادری کے افراد کی تھی۔

پولیس کے تربیتی مرکز جیسی بڑی سکیورٹی تنصیب کو نشانہ بنا کر تنظیم نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ اب بھی اس طرح کی کارروائیوں کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سکیورٹی حکام کی جانب سے فوری طور پر لشکری جھنگوی العالمی کا نام لینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ممکنہ طور پر ایسے کسی حملے کا خدشہ تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں