پولیس ٹریننگ کالج میں سکیورٹی کی صورتحال مثالی نہیں تھی: انوار الحق کاکڑ

پاکستان، کوئٹہ تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کوئٹہ کے قریب پولیس ٹرینگ کالج پر شدت پسندوں کے حملے میں 60 سے زائد اہلکار ہلاک اور 116 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

بلوچستان کی صوبائی حکومت کے ترجمان نے اعتراف کیا ہے کہ شدت پسندوں کے حملے کا نشانہ بننے والے پولیس ٹریننگ کالج میں سکیورٹی کی صورتحال مثالی نہیں تھی اور موجودہ خطرات کے پیش نظر سکیورٹی زیادہ سخت اور غیر معمولی ہونی چاہیے۔

پیر کی شب کوئٹہ کے قریب واقع سریاب پولیس ٹریننگ کالج پر شدت پسندوں کے حملے میں 60 سے زائد اہلکار ہلاک اور 120 سے زائد زخمی ہوئے ہیں اور آئی جی ایف سی کا کہنا ہے کہ اس حملے میں لشکر جھنگوی العالمی ملوث ہے۔

٭ کوئٹہ: پولیس کے تربیتی مرکز پر حملے میں 61 اہلکار ہلاک، 124 زخمی

صوبائی ترجمان انورالحق کاکڑ نے اس بارے میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تربیتی مرکز کی سکیورٹی کے انتظامات پر خصوصی توجہ نہیں دی گئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے پاس محرم کے دوران کسی دہشت گرد واقعے کے بارے میں اطلاعات تھیں۔

’محرم کے دوران سکیورٹی ہائی الرٹ تھی لیکن عاشورہ کے بعد سکیورٹی معمول کے مطابق آ گئی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گردوں نے ٹریننگ سینٹر کو نشانہ بنایا۔‘

دوسری جانب اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی میں خامیوں کی وجہ سے ہی دہشت گردی کے واقعات ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں صوبائی حکومتوں سے پوچھوں گا کہ ہم مسلسل الرٹ کیوں نہیں ہوتے۔ اس حملے میں ناقص سکیورٹی کے ذمے داروں سے جواب طلبی کی جائے گی۔‘

صوبائی ترجمان انوار الحق کاکڑ نے بتایا کہ حملے کے وقت سینٹر میں 400 زیر تربیت اہلکار موجود تھے۔

ترجمان نے بتایا کہ دہشت گردوں نے رات کے اُس پہر میں حملہ کیا جب زیر تربیت اہلکار اپنے کمروں میں سو رہے تھے۔

ہلاکتوں کے بارے میں بتاتے ہوئے انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ’زیر تربیت اہلکاروں کو ایک شدت پسند نے یرغمال بنایا ہوا تھا اور جیسے ہی سکیورٹی اہلکار اس کمرے میں داخل ہوئے خودکش حملہ آور نے اپنے آپ کو اڑا دیا۔‘

انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں سکیورٹی کے انتظامات بہتر بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ دہشت گرد غیرملکی ایجنسیوں کی معاونت سے ملک میں شدت پسند سرگرمیاں کر رہے ہیں۔

’شدت پسند افغانستان اور انڈیا کی رہنمائی میں ٹریننگ حاصل کریں گے تو انھیں لاجسٹک مدد فراہم ہو گی، وہ ٹیکٹیکل اور سٹرٹیجک دونوں لحاظ سے ہم سے اگے ہوں گے۔ ہمیں صرف شدت پسندوں کا مقابلہ نہیں کرنا بلکہ ہمیں بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان انٹیلیجنس ایجنسی این ڈی ایس کا بھی مقابلہ ہے۔ شدت پسند اُن کے ساتھ تیسرے فریق ہیں۔‘

بلوچستان کے صوبائی ترجمان نے کہا کہ ’ہمار سب سے بڑا چیلنج انڈیا اور افغانستان جیسی وہ غیر ذمہ دار ریاستیں ہیں جو دہشت گردی کو سٹرٹیجک ہتھیار کے طور پر پاکستانی ریاست کے خلاف استعمال کر رہےہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں