’معلوم نہیں بھائی زخمی ہے یا شہید‘

کوئٹہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کوئٹہ پولیس ٹریننگ کالج کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے بعد کامیاب اہلکاروں کو اچانک کالج طلب کیا گیا لیکن اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور اس کالج کی سکیورٹی بہتر بنانے کے بار بار مطالبوں کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

کالج پر حملے میں بچ جانے والے نوجوانوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنا کورس مکمل کرنے کے بعد اپنے گھروں کو چلے گئے تھے اور پھر اچانک انھیں اطلاع موصول ہوئی کہ وہ کالج میں حاضری دیں لیکن کوئی وجہ نہیں بتائی گئی کہ انھیں کیوں بلایا جا رہا ہے۔

سریاب روڈ پر پولیس ٹریننگ کالج کے سامنے ایک شخص محب اللہ زارو قطار رو رو کر اپنے بھائی کو تلاش کر رہا تھا۔ سر پر رومال باندھے لمبی داڑھی اور آنکھوں سے بہتے آنسو محب اللہ کی تشویش اور بھائی کے بارے میں ان کی پریشانی دیکھ کر لوگ ان سے ہمدردی کا اظہار کرتے رہے۔

محب اللہ نے بتایا کہ وہ مستونگ سے آئے ہیں اور بھائی کے بارے میں انھیں کچھ نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہے۔ 'میں نے کالج میں دیکھ لیا اور کے ساتھیوں سے بھی معلوم کیا لیکن وہ کہتے ہیں کہ ان کے بھائی کو انھوں نے دس بجے کے بعد کہیں نہیں دیکھا اب وہ زخمی ہے یا شہید ہو گیا انھیں نہیں معلوم۔'

اس طرح متعدد افراد اپنے پیاروں کو تلاش کرتے رہے۔ تربت سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کیڈٹ نعیم پسند نے بتایا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے 32 افراد کا تعلق مکران ڈویژن سے ہے اور مکران ڈویژن میں بھی تربت کے کیڈٹوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت کالج میں موجود تھے جب حملہ آور داخل ہوئے انھوں نے خود بھی فائرنگ کی لیکن حملہ آور چھپ کر فائرنگ کرتے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس کالج پر یہ کوئی پہلا حملہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی اس کالج پر دو مرتبہ حملہ کیا جا چکا ہے۔ اس کالج پر ایک مرتبہ راکٹ داغے گئے جبکہ ایک حملہ بارودی مواد نصب کر کے کیا گیا جب صبح کے وقت کیڈٹ تربیت حاصل کر رہے تھے۔

کیڈٹوں نے بتایا کہ محرم سے پہلے پاسنگ آؤٹ پریڈ کے تقریب میں کہا گیا تھا کہ اس کالج کی سکیورٹی بڑھائی جائے۔

پولیس ٹریننگ کالج کے عقب میں کچی دیوار ہے جو مختلف مقامات پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ کالج کا احاطہ انتہائی وسیع ہے اور وہ عمارت جہاں کیڈٹوں کا ہاسٹل ہے، گیٹ سے کوئی ایک فرلانگ دور واقع ہے۔

کالج کی دیوار پر کوئی خاردار تار نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اور ایسی رکاوٹ ہے جس سے شدت پسندوں کو روکا جا سکے۔

اس کالج کی سکیورٹی کے لیے ایک وقت میں 12 اہلکار تعینات رہتے ہیں لیکن حملے کے وقت شدت پسندوں کے سامنے صرف ایک سکیورٹی گارڈ موجود تھا جسے فائرنگ کے تبادلے کے بعد ہلاک کر دیا گیا اور حملہ آور آسانی سے اس عمارت تک پہنچ گئے۔

کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ کالج پر حملے کے بعد بلوچستان حکومت کا امن و امان کی صورت حال پر آج بدھ کے روز ایک اہم اجلاس طلب کیا گیا۔ اس اجلاس میں ایک مرتبہ پھر سکیورٹی کی صورت حال پر اہم فیصلے کیے جائیں گے، بالکل اسی طرح جیسے ڈھائی ماہ پہلے سول ہسپتال میں وکلا پر خود کش حملے کے بعد طلب کیے گئے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس طرح کے اجلاس میں کیا فیصلے کیے جاتے ہیں اور ان پر کتنا عمل درآمد ہوتا ہے یہ شاید اب سب لوگوں کو معلوم ہے۔

پشاور سے کوئٹہ اور کراچی تک متعدد بار اس طرح کے حملے ہو چکے ہیں اور اس طرح کے اجلاس منعقد ہوئے ہیں جس میں رپورٹیں طلب کرکے اہم فیصلے کیے گئے لیکن کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں