خیبر پختونخوا کے نجی سکولز کا پانچویں جماعت کے بورڈ امتحان کے خلاف احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حکومتی فیصلے کے خلاف صوبہ بھر میں ابتدائی طورپر چار روزہ احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے نجی تعلیمی اداروں نے حکومت کی جانب سے پانچویں جماعت کے طلبا کے لیے بورڈ کا امتحان لازمی قرار دینے کے فیصلے کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اس کے خلاف مرحلہ وار احتجاج کا آغاز کر دیا ہے۔

نجی تعلیمی اداروں کے اتحاد صوبائی ایکشن کونسل کے مرکزی رہنما یاور نصیر نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومتی فیصلے کے خلاف صوبے میں ابتدائی طور پر چار روزہ احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت بدھ کو مالا کنڈ ڈویژن میں نجی تعلیمی اداروں کے پرنسپل صاحبان کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا گیا۔

’چوکیداروں کا سکولوں میں 24 گھنٹے مسلح ڈیوٹی سے انکار‘

ناقص سکیورٹی پر سینکڑوں تعلیمی اداروں کے خلاف مقدمات

انھوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں ڈیرہ اسمعیل خان، ہزارہ اور پشاور کے ڈویژنوں میں حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور پریس کانفرنسوں کا اہتمام کیا جائے گا۔

ان کے مطابق محکمۂ تعلیم کی جانب سے حال ہی میں پانچویں جماعت کے طلبا کے لیے بورڈ کا امتحان لازمی قرار دینے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے موجودہ حالات میں اس پر عمل درآمد کروانا مشکل نظر آتا ہے۔

ان کے بقول 'حکومت کی جانب سے ان کو پانچویں جماعت کے لیے جو ماڈل پیپرز دیے گئے ہیں وہ نجی تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے نصاب سے مطابقت نہیں رکھتے۔'

یاور نصیر کا مزید کہنا تھا کہ محکمۂ تعلیم کی جانب سے ابھی تک پرائیوٹ سکولوں کے اساتذہ یا مالکان کے لیے کسی ورکشاپ یا کانفرنس تک کا انعقاد نہیں کیا گیا ہے جس سے انھیں اس پروگرام کے بارے میں بریف کیا جا سکے۔

' ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہمارا تعلیمی نظام بین الاقوامی معیار کے مطابق ہو جائے لیکن ایک تو اس کے لیے وقت درکار ہے اور دوسرا اسے امتحان کا نام نہیں دینا چاہیے بلکہ پانچواں جماعت کے لیول پر محکمۂ تعلیم کی جانب سے طلبا کا جائزہ ٹیسٹ لینا چاہیے جس میں پاس فیل کا تصور نہ ہوں اور جو ہمیں بھی منظور ہوگا۔'

یاور نصیر نے مزید بتایا کہ پوری دنیا میں نرسری سے لے کر آٹھویں جماعت تک جائزہ ٹیسٹ لیے جاتے ہیں جس میں کسی طالب علم کو فیل نہیں کیا جاتا بلکہ ہر سال ان کو پروموٹ کیا جاتا ہے جب کہ ' او لیول' میں ان کا امتحان لیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت یہ نظام یہاں نافذ کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتی ہے جس سے نہ صرف طلبا کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم کے مواقع میسر ہوں گے بلکہ ان کی بہتر انداز میں تربیت بھی ہوگی۔

خیال رہے کہ محکمۂ تعلیم خیبر پختونخوا نے تمام نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں اگلے سال 2017 سے پانچویں جماعت کا امتحان بورڈ کے ذریعے سے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

صوبائی حکومت نے نجی تعلیمی اداروں پر نظر رکھنے کے لیے حال ہی میں ریگولیٹری اتھارٹی کے نام سے ایک بل بھی متعارف کروایا جسے عنقریب صوبائی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کردیا جائے گا۔

اس بل کے تحت تمام پرائیوٹ سکولوں کے اساتذہ کو تنخواہیں سرکاری سکولوں کے اساتذہ کے سکیلز کے برابر دی جائیں گی جب کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں نجی تعلیمی ادارے کو نہ صرف جرمانہ کیا جا سکتا ہے بلکہ سکول کا مالک ایک سال تک جیل بھی جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں