کراچی میں رینجرز کا مقابلے میں تین شدت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رینجرز نے گروہ کا نام ظاہر نہیں کیا اور کہا ہے کہ گھیراؤ کر کے مقابلہ کیا گیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں رینجرز کے ساتھ ایک مبینہ مقابلے میں تین مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی العالمی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ان کے سربراہ کا بھائی بھی شامل ہے۔

رینجرز کے ترجمان کے اعلامیے کے مطابق اتحاد ٹاؤن کے علاقے میں خفیہ اطلاع پر رینجرز نے کالعدم گروہ کے ٹھکانے کا گھیراؤ کر لیا، جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور شدت پسندوں نے فرار ہونے کی کوشش کی۔

رینجرز نے گروہ کا نام ظاہر نہیں کیا اور کہا ہے کہ گھیراؤ کر کے مقابلہ کیا گیا، جس میں 3 شدت پسند ہلاک اور رینجرز کے دو اہلکار زخمی ہوگئے۔

کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی رینجرز حکام نے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے جبکہ صحافیوں کی جانب سے بار بار ترجمان سے یہ سوال پوچھا گیا تاہم کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔

رینجرز کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں سے بھاری تعداد میں اسلحہ و بارود برآمد کیا گیا ہے۔

دوسری جانب کالعدم شدت پسند گروہ لشکر جھنگوی العالمی کے ترجمان نے ایک اعلامیے میں دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ان کے امیر کا بھائی بھی شامل ہے۔

ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ یوسف منصور خراسانی کے چھوٹے بھائی سید کاشف علی ولد سید اسد علی کو پاکستانی ایجنسیوں نے کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد سے منگل کی شب گرفتار کیا تھا۔

یاد رہے کہ کوئٹہ میں پولیس کے تربیتی مرکز پر حملے میں 60 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے اور اس کے بعد ایف سی بلوچستان کے سربراہ میجر جنرل شیر افگن کا کہنا ہے کہ اس حملے میں لشکر جھنگوی العالمی ملوث ہے اور حملہ آور افغانستان سے ہدایات لے رہے تھے۔

جبکہ تحریکِ طالبان پاکستان کراچی کے نام سے بی بی سی کو موصول ایک پیغام میں حکیم اللہ محسود گروپ کے ملا داؤد منصور کی جانب سے یہ حملہ کرنے کا دعویٰ سامنے آیا تھا۔

اسی بارے میں